30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واثرالترمذی عن مجاھد قال دخلت مع عبدالله بن عمر مسجدًا وقد اذن فیہ ونحن نریدان نصلی فیہ فثوب المؤذن فخرج عبدالله [1] (الحدیث)
اثراٰخرعن ابی الشعشاء قال خرج رجل من المسجد بعدما اذن فیہ بالعصر وقال ابو ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ ما ھٰذا فقد عصٰی اباالقاسم صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم[2]۔ فانھماعلی وزان اثراقوی لم یھتدوا لہ وھو اثر مسلم عن عبدالله بن مسعودرضی الله تعالٰی عنہ: ان من سنن الھدٰی الصلٰوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ[3]۔"
كما قد منا فی النفحۃ التاسعۃ |
اورترمذی كے اس اثر كا بھی جواب ہوگیا جو حضرت مجاہد سے مروی ہے كہ "ہم حضرت عبدالله بن عمررضی الله تعالٰی عنہ كے ساتھ ایك مسجد میں گئے جس میں اذان ہوچكی تھی اورہم اسی مسجد میں نماز پڑھنا چاہتے تھے تو مؤذن نے تثویب كہی تو حضرت عبدالله مسجد سے نكل گئے۔" ایك اوراثر جو ابو شعشاء سے مروی ہے كہ اذان عصر كے عد ایك شخص مسجد سے نكل گیا تو حضرت ابو ھریرہ رضی الله تعالٰی عنہ نے فرمایا"اس نے ابوالقاسم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كی نا فرمانی كی ہے۔" یہ دونوں حدیثیں اسی روایت كے ہم پلہ ہیں جو امام مسلم نے حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت كی۔سند كے اعتبار سے یہ روایت مذكورہ بالا دونوں روایتوں سے قوی بھی ہے۔:"جس مسجدمیں اذان ہوتی ہے اس میں نماز پڑھنا سنن ہدٰی ہے۔" یہ اثرہم نفحہ تاسعہ فقہیہ میں ذكر كر آئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع