30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بتوارث تدعیہ الاٰن فی بعض البلدان وما فیكم ولا فیمن ولی كم او ولی من ولی كم من یكون فعلہ اوسكوتہ حجۃ فی الشرع فضلًا عن ان یكون حجۃ علی الشرع والله یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم۔ نفحہ۱۳:ظھر بھذا ولله الحمد وھن تمسكہ بفعل مؤذن الحرمین اشریفین فمع ان ھذا الاذان فی مكۃ زادھا الله شرفا علی حاشیۃ المطاف وما كان مسجد الحرام علی عہد سید الانام علیہ افضل الصلٰوۃ و السلام الاقدر المطاف كما فی المسلك المتقسط علی القاری وغیرہ فاذن محل الاذان الاٰن ھو محلہ القدیم وان احاط بہ المسجد بالزیادۃ كما ارساط بئر زمزم۔وفی المدینۃ المنورۃ صلی الله تعالٰی علی من نورھا وبارك وسلم علٰی دكۃ بازاء المنبر فامرقدمت وقدتم الامر لما قدمنا ان الدكاك ومئذنۃ خارجۃ عن المسجد بالمعنی الاول غیر ان الشان فی احداثھا كما |
مذعومہ توارث كا كیا حال ہوگا جس میں آپ جیسوں سے پیوسۃ لوگ ہیں۔ان كا فعل یا سكوت شریعت میں حجت كب ہے كہ اس كو شرع كے خلاف حجت قرار دیا جائے۔بس الله تعالٰی ہی جسے چاہتاہے صراط مستقیم كی ہدایت دیتاہے۔ نفحہ۱۳:اس توضیح سے ان لوگوں كے استدلال كی كمزوری ظاہرہوگئی جو حرمیین شریفین كے مؤذنوں كے فعل سے استدالل كرتے ہیں كہ یہ اذان مكہ شریف مں مطاف كے حاشیہ پر ہوتی ہے۔اورحضورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے عہد كریم میں مسجد حرام موجودہ مطاف كے حدود میں ہی تھی، جیسا كہ ملا علی قاری كی مسلك متقسط وغیرہ میں ہے،تو اس تقدیر پر آج بھی حرم میں اذان وہیں ہو رہی ہے جہاں حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے عہد میں ہوتی تھی۔اب مسجد كی توسیع كی وجہ سے اگرچہ وہ جگہ مسجد كے احاطہ میں آگئی ہے، جیسا كہ چاہ زمزم بھی فی الحال مسجد كے احاطہ میں ہی ہے، اور مدینہ مورہ علی صاحبہا الصلٰوۃ واسلام میں چبوترے پر جو منبر كے ماقابل ہے۔تو اگریہ چبوترے قدیمی ہوں تو بات مكمل ہو گئی كیونكہ ہم بتا چكے ہیں كہ چبوترہ اورمئذنہ مسجد بالمعنی الاول سے خارج ہے لیكن بات تو ان كے حادث ہونے كی ہے۔تو ان سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع