30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علٰی عہد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم،وھذا قول من لیس لہ من العلم الا الاسم۔فلا التواریخ التزمت ذكر جمیع الحوادث الجزئیۃ المتعلقۃ بالمسائل الشرعیۃ،ولا كل كتب التواریخ وجد المدعی، ولا كل ماوجد طالعہ برمتہٖ،ولا عدم الوجدان عدم الوجود،ولا عدم الذكر ذكر العدم۔ ولو تنزلنا عن كل ھذافاذقد ثبت بالحدیث الصحیح ان الذی كان علٰی عھدرسول الله صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم خلاف ماشاع فی ھٰؤلاء فالتغیر ثابت لامرد لہ افترددون الحدیث الصحیح،ام تكذبون العیان الصریح،بان التواریخ لم تتعر لبیان التغیر،ولكن الجھل اذا تملك لم یخش الفضوح والتغییر،ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔ نفحہ۱۲:لاحجۃ فی توارث البعض اذا خالف الحدیث والفقہ،الا ترٰی ان اجل توارث واعظمہ واھیبہ وافخمہ توارث اھل الحرمین المحترمین زادھما الله تعالٰی عزا وتعظیما واھلھما فضلًا وتكریمًا |
اس دلیل سے یہ اندازہ ہوتاہے كہ اس كے قائل كو علم سے كچھ مس ہی نہیں كیونكہ نہ تو تاریخ میں اس بات كا التزام ہے كہ مسائل جزئیہ شرعیہ سے متعلق ہر ہر جزئی كا اس میں بیان ہوگا۔نہ مدعی نے اسلام كی ساری تاریخی كتابوں كو پایا،نہ سب كا حرفًا حرفًامطالعہ كیا۔ظاہر ہے كسی چیز كا نہ پانا اس كے نہ ہونے كی دلیل نہیں۔یونہی كسی امر كا ذكر نہ ہونا اس بات كی تصریح نہیں كہ یہ ہوا ہی نہیں۔اوراگر سب كچھ من وعن تسلیم كرلیا جائے،تو یہاں توصحیح حدیث سے یہ ثابت ہورہا ہے كہ حضورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے زمانہ میں جو ہورہا تھا آج اس كے خلاف كیاجارہا ہے،تو تاریخ میں ذكر ہو نہ ہو۔صحیح حدیث سے توثابت ہورہا ہے كہ سنت رسول میں تغیر ہوا،تو كیا آپ لوگ اہل تاریخ كی خموشی كا سہارا لے كر صحیح حدیث كو جھٹلائیں گے،اور عین صریح كا انكار كریں گے۔مگر واقعہ یہ ہے كہ جہل جس پر سوار ہوجاتاہے اسے رسوائی یا عار دلانے كی قطعًاپرواہ نہیں ہوتی۔ نفحہ۱۲:اوركچھ لوگوں كا توارث جب حدیث وفقہ كے خلاف ہوتو لائق استدلال نہیں ہوتا۔سب جانتے ہیں كہ توارث میں سب سے عظیم وبزرگ اورپرہیبت حرمین محترمین زادہم الله شرفًا وتعظیمًا كا توارث ہے،وہ بھی قرون اولٰی كامگر ہمارے امام اعظم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع