30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فنقلہ ھشا م الی المسجد علی المنا ر ۃ ۔
قال العلامۃ الزرقانی المالكی رحمۃ الله تعالٰی علیہ فی شرح المواھب (عبارۃ ابن الحاجب من المالكیۃ یحرم الاشتغال عن السعی عند اذان الخطبۃ وھو معہود) فی زمانہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم،(فلماكان عثمان وكثروا امر بالاذان قبلہ علی الزوراء اھ ثم نقلہ ھشام الی المسجد وجعل الاٰخربین یدیہ بعمنی انہ ابقاہ بالمكان الذی یفعل فیہ فلم یغیرہ بخلاف ماكان یفعل بالزوراء فحولہ الی المسجدعلی المنار[1] اھ باختصار۔ |
بجائے خطیب كے سامنے كردیا۔ مگر محققین مالكیہ نے اپنے ہی ہم مذہب علماء كے اس خیال كو رد كردیا كہ ہشام نے دوسری اذان میں كوئی ترمیم نہیں كی ، وہ عہد رسالت اورعہد شیخین بلكہ عہد عثمان ومابعد كے موافق برابر خطیب كے سامنے ہوتی رہی، ہشام نے تو صرف حضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ كی اضافہ كردہ اذان كو مقام زوراء سے منتقل كر كے منارہ مسجد نبوی پر كرانا شروع كیا۔ ) چنانچہ امام زرقانی مالكی رحمۃ الله علیہ نے شرح مواہب لدنیہ میں ابن حاجب مالكی كی مندرجہ ذیل عبارت كی شرح مٰن فرمایا:"خطبہ كی اذان شروع ہونے پر نماز جمعہ كے لئے سعی حرام ہے"(یعنی اذان خطبہ شروع ہونے سے قبل ہی مسجد میں پہنچ جانا چاہیے ) زمانہ رسالت میں یہی معہود ومعروف تھا، حضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ كا زمانہ آیا اور نمازیوں كی تعدادزیادہ ہوگئ توحضرت ذوالنورین نے خطیب كےمنبر پر بیٹھنے سے قبل بھی مقام زوراء پر ایك اذان پكارنے كا حكم دیا (پھرہشام نے اس اذان كو مسجد كی طرف منتقل كیا اور دوسری اذان كو سامنے لایا) مطلب یہ ہے كہ دوسری اذان وہیں دلائی جہاں عہد رسالت میں ہوتی تھی،اس میں كچھ تغیرنہیں كیا، البتہ حضرت عثمان غنی نے جو اذان مقام زوراء پر دلوانی شروع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع