30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا سنۃ ثابتۃ فی خصو ص الا مر ا ولا۔علی الثا نی یحال الا مر علی ھا ل الشیئ فی نفسہ فا ن كا ن حسنا داخلا د تحت قوا عدالحسن فحسن علی تفاوتہ من الاستحباب الی الوجوب حسب ما تقتضیہ القواعد الشر عیۃ،وقد یطلق علیہ"المتوارث"اذتقا د م عہدہ كذكر العمین الكر یمین فی الخطبۃ،وھذا ا دنی اقسامہ ولا اطلاق لہ علی ما دونہ الله م الا لغۃ، كتوارث التقیۃ فی الرا فضۃ والكذب فی الو ھا بیۃ وان كان قبیحا داخلا تحت قوا عدالقبح فقبیح علی تفاوتہ من الكر اھۃ الی التحر یم او لا و لا فلا ولا بل مبا ح عــــــہ والخروج عن العا دۃ شھر ۃ و مكر و ہ كما نصو ا علیہ [1]۔ و ورد |
قوا عد شر عیہ ان كے با ر ے میں یہ دیكھنا ہو گا كہ یہ كسی سنت ثابتہ كے مخا لف تو نہیں،مخا لف نہ ہو تو ا س كا معا ملہ استحبا ب سے وجو ب تك میں دائر ہو گا اور زما نہ كی قد ا مت كے اعتبا ر سے كبھی كبھی اس كو بھی"متو ا رث"كہہ دیا جا تا ہے جیسا كہ خطبہ جمعہ میں حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے دو نوں چچاؤں كے ذكر كا روا ج كہ حا دث ہے پر یہ نہیں معلو م كہ كب سے را ئج ہے البتہ یہ كسی سنت ثا بتہ كے خلا ف نہیـں تو یہ تو ا ر ث كا سب سے ادنی در جہ ہے اس كے بعد كی ایجادكو متوارث بمعنی اصطلا ح شر ع نہیں كہا جا ئیگا ہا ں توارث لغو ی ہو سكتا ہے جیسے تقیہ شیعو ں میں متو ا رث ہے اور جھو ٹ وہا بیہ میں ابًا عن جدٍ را ئج ہے اور اگر ایسی نو پید چیز ہو جو بعد عہد رسا لت ہو اور اسكے حد و ث كا وقت نہ معلو م ہو اور وہ خو د قبیح اور قواعد قبح كےتحت داخل ہو تو قبیح ہے اور اس كا دا ئر ہ بھی مكر و ہ سے لے كر تحریم تك پھیلا ہوا ہے۔اور اگر یہی حا دث نہ سنت ثابتہ كے خلا ف ہو نہ قو ا عد قبح كے دائر ے میں آتی ہو،تو یہ صرف مبا ح ہے،نہ قبیح ہے،نہ مستحب،ہا ں جب شہر و علا قہ كی عا دت سے خا ر ج ہو تو مكر و ہ ہو گا۔چنا نچہ |
عــــــہ: بیاض فی الاصل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع