30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من الجلد الثا نی من المكتو با ت الشیخ احمد العمری السر ھند ی الشہیر بمجد د الف ثانی ما تر جمتہ: "غمر ت الد نیا فی بحر البد عا ت و اطمأ نت بظلما ت المحد ثا ت من یشتطیع دعو ی رفع البد عۃ التكلم باحیا ء السنۃ اكثرعلما ء الز من حما ۃ البد ع و محا ۃ السنن یحسبو ن شیو ع البد ع تعا ملا فیفتون بجوازھا بل استحسانھا ویدلون الناس علی اتیانھا یظنون ان الضلال اذا شاع والباطل اذا تعورف صار تعاملا ولا ید رو ن ان مثل ھذا التعامل بشیئ لیس دلیلا علی حسنہ انما العبر ہ بتعا مل جا ء من الصد ر الاول او حصل اجما ع جمیع النا س علیہ ثم احتج بعبا ر ۃ الغیا ثیۃ المذكو ر ۃ ثم قا ل ولا شك ان العلم بتعا مل النا س كا فۃ و عمل جمیع القر ی وا لبلدا ن خا ر ج عن وسع البشر [1]اھ"۔ واكثر المخا لفین لنافی المسئلۃ الدا ئر ۃ انما یفتخر و ن با نھم من غلما ن ھذا الشیخ و قد قری علیہم قو لہ ھذامرارا فلایسمعو ن |
كے مكتو با ت كی جلد ثا نی مكتوب نمبر۵۴میں ہے:دنیا بد عا ت كے سمند ر میں غو طہ لگا چكی ہے اور محد ثا ت كی تا ریكیو ں میں مطمئن ہے رفع بد عت اور تكلم باحیا ء سنت كا دعوی كو ن كر سكتا ہے اس زما نہ كے اكثر علما ء تو بد عا ت كے حا می اور سنت كے مٹا نے وا لے ہیں اوربد عا ت كے شیو ع اور كثرت كو تعا مل قرار دیتے ہین اور اس كے جوا ز بلكہ استحسا ن كا فتو ی صاد ر كر تے ہیں وہ سمجھتے ہیں كہ بد عت پھیل جا ئے اور گمر ا ہی عا م ہو جا ئے تو تعا مل بن جا تا ہے یہ لو گ یہ نہیں سمجھتے كہ كسی چیز كا ایسا تعا مل اس كے حسن ہو نے كی دلیل نہیں جز ایں نیست كہ وہ تعا مل معتبر ہے جو صدر اول سے معمو ل بہا ہو یا اس پر تمام لو گو ں كا اجما ع ثا بت ہو(پھر غیا ثیہ كی مذكو ر ہ با لا عبا ر ت سے استدلا ل كر كے فر ما یا)تما م لو گو ں كا تعا مل اور تما م شہر و ں اور دیہا تو ں كا عمل معلو م ہو نا آدمی كی وسعت و طا قت سے با ہر ہے اھ" مسئلہ اذا ن میں ہما رے مخا لفین میں سے بہتو ں كو اس پر فخر ہے كہ وہ شیخ مجدد كے غلا مو ں میں سے ہیں ہم نے بار ہا شیخ مجدد كی یہ عبارت پڑھ كر انہیں سنا ئی بھی(كہ اب سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع