30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الذی فعلہ عثما ن رضی الله تعالٰی عنہ با لزوارء و جعلہ علی النا ر ثم نقل الاذان الذی كا ن علی المنا ر حین صعود الا مام علی المنبر علی عہد النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم و ابی بكر و عمر وصدرا من خلافۃ عثما ن رضی الله تعالٰی عنہم بین ید یہ قا ل علما ؤنا رحمھم الله تعالٰی علیہم و سنۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اولی ان تتبطع [1]،اھ"(با ختصار)۔ وحواشی الجو اھر الزكیۃ شر ح المقد مۃ العشما ویۃ للعلامۃ یو سف السفطی الما لكی الاذان الثا نی كا ن علی المنار فی الزمن القد یم علیہ اھل المغر ب الی الان وفعلہ بین ید ی الا مام مكر وہ كما نص علیہ البر زنی وقد نھی عنہ ما لك فعلہ علی المنا ر و ا لا ما م جالس ھو المشرو ع [2] اھ سكند ر ی۔ وفی المو اھب اللدنیۃ للا ما م احمد القسطلانی وشر حھا للعلا مۃ محمد |
منتقل كیا اور اذا ن عہد رسا لت وصا حبین اور ابتد ا ئے عہد عثما ن غنی میں(یعنی اما م كے منبر پر بیٹھنے كے وقت)منا ر ہ پر ہوتی تھی اس كو اما م كے سامنے دلانے لگا ہما رے علما ء كرا م فرماتے ہیں رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كی سنت كی پیروی اس بات كی زیا دہ مستحق ہے كہ اس كی پیر وی كی جائے۔ حوا شی جو ا ہر زكیہ شر ح مقد مہ عشما ویہ للعلا مہ یو سف السفطی سكند ر ی ما لكی میں ہے دوسر ی اذا ن زما نہ قد یم سے منا ر ہ پر ہو تی تھی اہل مغر ب كا آج بھی اسی پر عملدر آمد ہے اس اذا ن كے اما م كے سا منے دینے كو اما م برزنی نے مكر و ہ لكھا ہے اما م ما لك نے اس سے منع فرما یا اما م كے مبنر پر بیٹھنے كے وقت منار ہ پر اذا ن مشر و ع ہے۔ موا ہب الد نیہ میں اما م احمد قسطلانی نے اور اس كی شر ح میں علا مہ زرقا نی ما لكی رحمھما لله تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع