30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اتَّبَعُوۡا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ "[1]قال فی الاتقان والفتوحات الا لھیۃ(ای فی زمن ملكہ[2])،و فی مدارك الامام النسفی:"ای علی عھد ملكہ وفی زمانہ [3]"اھ۔ ولا شك ان ھذالاذان علی عھدالمنبر وفی زمانہ، فرجعت الی معنی عند الزمانیۃ۔ رابعًا:اصل الكلا م انھم اختلفو ا فی الاذان المعتبر لا یجا ب السعی و تر ك العمل ھل ھو الاذان الا ول كما ھو الا صح و بہ قا ل الحسن بن زیا د عن سید نا الا ما ام الا عظم رضی الله تعالٰی عنہ ام اذا ن الخطبۃ لانہ لم یكن عند نزو ل الكر یمۃ وغیر ہ و بہ قا ل الا مام الطحا وی رحمہ الله تعالٰی و نقل الشمنی فی شر ح النفا یۃ كلا مہ ھكذا قا ل الطحا وی:انما یجب السعی و تر ك البیع اذا ا ذن الاذان الذی یكون وا لا مام علی المنبر لانہ الذی كا ن علی عہد رسو ل الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم و ابی بكر و عمر رضی الله تعالٰی عنھما [4]اھ |
انہو ں نے ملك سلیما ن پر شیطا نو ں كے پڑھے ہو ئے كی اتبا ع كی اتقا ن اور فتوحات الہیہ میں ہے یعنی ان كی حكو مت كے زما نہ میں مدار ك اما م نسفی میں ہے یعنی ان كی حكو مت اور ان كے زما نہ میں اور اس میں كو ئی شبہ نہیں كہ اذا ن خطبہ منبر كے وقت اور زما نہ میں ہے تو یہ عند زما نیہ كے ہم معنی ہو گیا۔ رابعًا: اصل یہ ہے كہ فقہا ء نے اس با ب میں اختلا ف كیا ہے كہ جمعہ كے لیے سعی كے وجو ب میں كس اذا ن كا اعتبا ر ہے،اذا ن اول كا(حنفیہ كے نزدیك یہی صحیح ہے اور حسن بن زیا د نے امام اعظم سے اس كی روا یت كی)یا اذان خطبہ كا كیونكہ آیت سعی كے نزو ل كے وقت اذا ن اول تھی ہی نہیں(یہی اما م طحا وی كا قو ل ہے جس كو شر ح نقا یہ میں شمنی نے نقل كیا)اما م طحا وی نے فرما یا كہ جمعہ كے وقت وجو ب سعی اور تر ك بیع كا حكم اس اذا ن كے وقت ہے جو اما م كے منبر پر بیٹھنے كے وقت دی جا تی ہے كیو نكہ پہلی اذا ن عہد رسا لت اور ابو بكر و عمر رضوان الله تعالٰی علیہم اجمیعن كے زما نہ میں نہ تھی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع