30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی تحریر الا ما م ابن الھما م و تقر یر الا مام ابن امیر الحا ج:"وھو ا ی اللزو م ھو بمعنی الحقیقی [1]،اھ وفی الر ضی الكا فیۃ منہ سر علی اسم الله تعالٰی ای ملتزما [2]" قال ربنا عزوجل" فَجَآءَتْہُ اِحْدٰىہُمَا تَمْشِیۡ عَلَی اسْتِحْیَآءٍ ۫ " [3] ای ملا زمۃ للحیا ء۔ ولا شك ان ھذا الاذان اینما كا ن لا زم ملا زم للمنبر فا نی تو فكو ن۔ ثا نیًا:الیست"علی"للمصا حبۃ،قا ل الا ما م الجلیل الجلا ل السیو طی فی الا تقا ن علی حر ف جر لھا معان(الی ان قال)ثا نیھا للمصا حبۃ كمع نحو"واٰ تی المال علی حبہ ای مع حبہ،وان ربك لذو مغفر ۃ الناس علی ظلمھم [4]" |
تحریم اما م ابن ہما م اور تقر یب اما م ابن امیر الحا ج میں ہے:"لزو م ہی علی كے معنی حقیقی ہیں"۔اور رضی شر ح كافیہ میں ہے اسی محا ورہ سے ہے الله كے نا م پر سیر كر یعنی اس كو لا زم پكڑو۔" قرآن عظیم میں یہ لفظ اسی معنی میں وارد ہوا ارشاد الہی ہے: "ان دو عورتو ں میں سے ایك شر م كر تی ہو ئی آئی"یعنی وہ شرم كو لا زم كئے ہوئے تھی۔ اور اذا ن خطیب اس اما م كو لا زم ہے جس نے منبر كا الزا م كیا ہے تو یہ لو گ علی كو اس كے حقیقی معنی(لزو م)سے پھیر كو كد ھر پلٹ رہے ہیں۔ ثانیًا:علی مصا حبت كے لیے ہے اما م جلا ل الد ین سیوطی اتقا ن میں فرما تے ہیں"علی"حرف جر ہے اس كے چند معا نی ہیں دوسرا معنی مصا حبت ہے جیسے لفظ مع قرا ن عظیم میں ہے كہ ما ل كو محبت كے با وجو د قرا بت داروں كو دیا(دوسر ی مثال) تمھا را رب ظلم كے با وجو د لو گو ں كی مغفر ت كر نیو ا لا ہے(یہا ں علی ظلم كا مطلب مع ظلمٍ ہے)" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع