30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
السمو ات حتی تلتصق با یا تھا انما المعنی تمر بحیث تر ا ھا وامثلھم طر یقۃ یقو ل ان بعض الفقھا ء اتی بعلی تا كید ا للقر ب یر ید ان المراد المبا لغۃ فی القرب حتی كا نہ علیہ فو قہ وكل ھذا من ھو سا تھم۔ فاولًا:قد اجمع العقلا ء ان اللفظ متی احتمل الحقیقۃ لا مجا ز عنھا الی المجا ز و معلو م ان علی بمعنی عند او بمعنی البا ء او للمبا لغۃ كل ذلك مجا ز وھی حقیقۃ فی اللزو م ففی اصول الا ما م شمس الائمۃ ثم كشف الا ما م البخار ی:"اما علی فللزا م با عتبار اصل الو ضع [1]،اھ"
|
ارشا د فر ما تا ہے:"آسما ن و زمین میں كتنی آیتیں ہیں جن گزر تے ہیں اور وہ ان آیتو ں سے اعرا ض كر تے ہیں۔"اس آیت میں خود لفظ علی ہی ہے تو كیاتم علی كو الصا ق كے معنی میں لے كر آسما نی آیتو ں سے متصل ہو نے كے لیے آسما نو ں تك بلند ہو نے كی طا قت ركھتے ہو پس اس آیت میں لا محا لہ تمر و ن علیہا كے یہی معنی مراد لینے ہو نگے كہ تم ان آیتو ں كو دیكھتے ہو ئے گزرتے ہو اس حا ل میں كہ تم میں او ران آیتوں میں آسمان كی و زمین كی دوری تھی اور ان میں سب سے زیا دہ سلیم الطبع نے یہ تشر یح كی كہ بعض فقہا كی عبارت میں علی المنبر كا لفظ قر ب كی تا كید كے لیے ہے مطلب یہ كہ مراد مبا لغہ فی القرب ہے یعنی منبر كے اتنا قر یب كہ گو یا منبر پر ہی ہو لیكن یہ بھی ان كی ہو س ہی ہے۔ اولًا:تما م اہل زبا ن كا اس امر پر اتفا ق ہے كہ لفظ كے معنی حقیقی جب تك بن سكیں معنی مجا زی مراد لینے كی كو ئی سبیل نہیں اور یہ واضح ہے كہ علی كو عند با ء یا مبالغہ كے لیے لینا اس كے معنی مجا زی ہو ں گے كہ اس كے معنی حقیقی تو لا زم كر نے كے ہیں جیسا كہ آو ل اما م شمس الا تمہ اور كشف اما م بخار ی میں: "علی اصل وضع كے اعتبار سے الزا م كے لیے ہے۔" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع