30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والانبیا ء من سید الانبیا ء صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فر ق لا یقد ر ولا یقد ر بشر ا ن یتصور اعظم بالوف الآف مرا ت مما بین الفلك الا علی وما تحت الثری وقد شملت كلھم عند۔ (۵)مثلہ قو لہ عزوجل" اِنَّ لِلْمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۳۴﴾"[1] (۶)فی اٰیۃ اخر ی وقا ل العلی الا علی تبارك وتعالٰی "اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الْجَنَّۃِ"۔[2] ومعلو م ان الله تعالٰی قد اتجا ب لھا وقد فر ج لھا ففی الد نیا ون بیتھا كما فی حد یث سلما ن [3]و حد یث ابی ہر یر ہ بسند صحیح رضی الله تعالٰی عنہما وما كا نت لتطلب اقر ب المنا زل وا ن تفضل علی الانبیا ء والر سل علیہم و علیھا الصلو ۃ والسلا م،بل قربا یلیق بھا وان لم یساوی ما لخدیجۃ و فا طمۃ و عا ئشۃ رضی الله تعالٰی عنھن |
كسی ولی كا درجہ اور كہا ں سید الانبیا ء اور دیگر انبیا ء علیہم السلام كا درجہ ان مر اتب میں تو فلك الا فلا ك اور تحت الثری سے بھی زیا دہ فا صلہ ہے مگر سب كو عند الله سے بیا ن كیا گیا ہے۔
(۵)اسی طرح الله عز وجل كا ارشا د گر امی ہے"بے شك متقین كے لیے رب كے پا س جنت نعیم فر ما یا ہے۔"
(۶)دوسر ی آیت میں الله تبا ر وتعالٰی نے فر ما یا:"اس نے دعا ما نگی یا الله !میر ے لیے اپنے پا س جنت میں ایك مكان بنا دے۔" (مذكو رہ با لا آیت كے تحت)حضر ت سلما ن وحضر ت ابو ہر یر ہ رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت ہے كہ الله تعالٰی نے ان پا ك بی بی كی دعا قبو ل كر لی تو كیا وہ انبیا ء واولیا ء سے بھی زیا دہ قرب الہی كی طا لب تھیں وہ تو اس كی خواستگا ر تھیں كہ قر ب كا وہ مقا م جو ان كے لائق ہو ،چاہے حضرت خدیجہ و فاطمہ و عائشہ رضوان الله تعالٰی عنہن كے در جہ كے ہم پلہ بھی نہ ہو چہ جا ئیكہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع