30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعند با ن عند یستعمل فی القر یب والبعید ولد ی مختص با لقر یب۔قا ل الر ضی فی شر ح الكا فیۃ عند اعم تصرفا من لد ی لان عند یستعمل فی الحا ضر القر یب وفیما ھو فی حرزك ان كا ن بعید ًا بخلا ف لدی فا نہ لا یستعمل فی البعید [1]۱ھ،والقر ب كما علمت ذو وسع بعید و لنو ضح ھھنا ایضا با یا ت الكلام الحمید۔ (۱)قا ل الله عز و جل:" اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصْوٰتَہُمْ عِنۡدَ رَسُوْلِ اللہِ"[2](الا یۃ)۔"ومرت فی النفحۃ الا ولی القر ا نیہ امر كل من فی مشھد ہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بغض الصو ت ولا یختص با لذی یلیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فسوا ء فیہ من لد یہ ومن علی الباب كلھم عند رسو ل الله بلا ارتیاب |
عند كو بین ید یہ سے تنگ ما نا جا ئے چنا نچہ عند اورلد ی میں یہی فر ق بیا ن كیا جا تا ہے كہ عند قریب و بعید دونو ں كے لیے اور لد ی خا ص طو ر سے قر یب پر دلا لت كر تا ہے رضی نحوی نے شر ح كا فیہ میں تحریر كیا:"عند اپنے تصر فا ت میں لد ی سے اعم ہے كہ وہ پا س اور دور دونو ں میں مستعمل ہے اور لدی كا استعما ل بعید میں ہو تا ہی نہیں ہے۔"اور ہم پہلے بیا ن كر آئے ہیں كہ خود قر یب كی جو لانگا ہ بھی بہت وسیع ہے مزید آیا ت قرآنیہ سے ہم اسے واضح كر تے ہیں: (۱)الله تعالٰی نے فر ما یا:"جو لوگ رسو ل الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے حضور اپنی آواز پست كر تے ہیں۔" نفحہ اولی قرآنیہ میں واضح كر آئے ہیں كہ یہ حكم ہر اس شخص كے لیے ہے جو رسو ل الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے پیش نگا ہ ہو حضور كے با لكل پا س بیٹھنے وا لو ں كے لیے كچھ خا ص نہیں بلكہ جو پا س ہے اورجو باب مسجد كے پاس ہے سب كے لیے یہی حكم ہے محرا ب رسو ل اور دروازہ مسجد پر بیٹھنے والے دو نو ں ہی عند رسو ل الله كہے جا ئیں گے سبھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع