30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والحمد لله رب العلمین۔ ثا لثا:نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الحكم العد ل وما كا ن عھد ہ فھو الفصل الم تسمع من الحدیث الصحیح ان ھذا ا لاذا ن كا ن یكون بین ید یہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی با ب المسجد فعلم ان ھذا القد ر من القر ب ھو المراد ھھنا فمن زادا و نقص فقد تعد ی وظلم ای من زاد فی القرب فا دخل الاذان فی المسجد با لمعنی الاول فقد تعد ی فی سنۃ المصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ومن نقص منہ فجعل ھذا الاذا ن خا رج المسجد با لمعا نی الثلثۃ فقد ظلم ومن جعلہ داخل المسجد با لمعینین الا خر ین و خار ج المسجد با لمعنی الا ول فھو الذی بالحق حكم و حكم الله ورسو لہ اجل واحكم جل و عز وتعالٰی و تكر م وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ نفحہ ۲:ظہر مما زھر ولله الحمد سفا ھۃ من تشبث ھھنا یقو ل الرا غب فی مفرا دتہ یقول:یقال |
فیصلہ ظا ہر ہو گیا مگر یہ لو گ اس كو نا پسند كر تے ہیں ہم تو اس ظہو ر حق پر الله تعالٰی كی حمد ہی كر تے ہیں۔ ثالثًا:یہا ں بین ید یہ كی حدمتعین كر نے كے لیے رسو ل الله صلی الله تعالٰی علیہ ولسم ھكم العد ل ہیں اور جو حضو ر صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے عہد میں ہو تا تھا وہی حق و با طل كے درمیان امتیازہے جسے حد یث صحیح سے سنا جا چكا كہ حضور كے سا منے مسجد كے دروا زہ پر اذا ن ہو تی تھی تو یہا ں قر ب كی بحكم رسو ل یہی حد مقر ر ہو ئی اور جو اس پر اضا فہ كرے یااس میں كمی كرے وہ ظلم و تعدی كرنے والا ہے پس جس نے اس قرب مروی میں اضافہ كركے داخل مسجد كر دیا تو اس نے سنت رسول پر زیا دتی كی،اور جس نے اس قر ب میں كمی كی كہ ہر سہ معنی مسجد سے اس كو خا رج كرد یا اس نے بھی ظلم كیا اور جس نے دو آخری معنی كے اعتبا ر سے خا رج مسجد كیا اور معنی اول كے اعتبا ر سے دا خل مسجد كیا،اس نے حق كے موافق حكم كیا، اور حكم و الله ورسو ل جل وعلا صلی الله علیہ وسلم كا ہے۔ نفحہ ۲:الحمد لله گز شتہ صفحا ت میں تحقیقات كے جو گلشن لہلہا ئے ان سے ان صا حب كی نا سمجھی ظا ہر ہو گئی جنھو ں نے اذا ن خطیب كے دا خل مسجد ہو نے پر مفردات اما م راغب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع