30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سنۃ،والتو را ۃ بی ید ی الانجیل و بین عیسی و مو سی علی ما فی الجمل الف و تسعما ئۃ و خمس و سبعو ن سنۃ و كذا ھی بین ید ی والفر قا ن و بین نزولیھما نحو من ثلثۃ الا ف سنۃ۔ (۶)لا یر تا ب احد ان المو ا جہ المغر ب حین تد لت الشمس للغر و ب ان یقو ل ان الشمس بین ید ی و با لفا رسیۃ"آفتاب پیش رو ئے من است"او بالھند یۃ" سو ر ج میر ے منہ كے سا منے ہے"مع ان بینھما مسیر ۃ ثلثۃ الا ف سنۃ وكذا یقول للثر یا اذا وا جھھا و بینھما مسیر ۃ ثما نیۃ الا ف سنۃ۔ (۷)فی الكر یمۃ التا سعۃ والعشر ین ارید الا تصا ل الحقیقی لان العمی لا یحصل الا بذا ك فظھر ان القلب المد لول بلفظ بین ید یہ لہ عر ض عر یض منبسط من الا تصا ل الحقیقی الی مسیر ۃ ثما نیۃ الاف سنۃ۔انما اصلہ الحا ضر المشہو د و الا ختلا ف لا ختلا ف المحل والمقصود فمثملا |
سے ز ا ئد كا فا صلہ ہے ا۳ور تو ریت انجیل كے ما بین ید یہ ہے ان دو نو ں كے د رمیا ن حسب روا یت جمل انیس سو پچھتر ۱۹۷۵ سال كا فاصلہ ہے۔اوریو نہی توراۃ قرا ن كے بھی بین ید یہ ہے تو توریت وقرا ۤن شر یف كا فا صلہ لگ بھگ تین ہزار سال كا ہو ا"۔ (۶)یہ با ت یقینی ہےكہ غروب آفتا ب كے وقت پچھم كی طرف رخ كر كے كھڑا ہو نےو ا لا عر بی میں كہتا ہے: "الشمس بین یدی"،اور فا رسی میں كہتا ہے:"آفتا ب پیش روئے است "،اور"ہند ی میں كہتا ہے۔""سو رج میرے منہ كے سامنے ہے۔"حا لانكہ ان دونو ں كے درمیان تین ہزار سا ل كی مسا فت ہے اور یہی با ت ثر یا كی طر ف رخ كر كے بھی كہتا ہے جبكہ اس كے اور ثر یا كے درمیان آٹھ ہزار سا ل كی را ہ ہے۔ (۷)انتیسو یں آیت میں لفظ"بین ید یہ"سے مرا د اتصا ل حقیقی ہے اس لیے كہ اند ھا پن بے اس كے متحقق نہیں ہو سكتا تو اس سے یہ ثا بت ہو ا كہ لفظ بین ید یہ كے مد لو ں كی جولان گاہ اتصا ل حقیقی سے شر و ع ہو كر آٹھ ہزا ر سال كی مسا فت تك پھیلی ہو ئی ہے تو اس كی اصل حا ضر و مشہو د كے لیے ہے اور محل و مقصود كے لحاظ سے اس حضو ر میں اختلا ف ہو سكتا ہے مثلًا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع