30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تو كلت والیہ انیب ۔ نفحہ ۱ : قد بینا با لحد یث و الفقہ ان السنۃ فی ھذا ا لا ذا ن كو نہ بین ید ی الخطیب اذا جلس علی المنبر و لكن لیس فی الفظۃ بین ید یہ ما یقرّأ عینھم ولا ما یمیل الیہ انما مفا دھا ان یكون بحذا ء المنبر قبا لۃ وجہ الخطیب من دون حائل یحجبہ عنہ وھذا یشمل دا خل المسجد و خا رجہ الی حیث تبقی المحا ذا ۃ والمشا ھد ۃ لیس فی مفا د اللفظ اكثر من ھذا غیر ان الفقہ دلنا علی ان الاذان لا یكون فی جو ف المسجد ولا بعیدا منہ بحیث لا یعد ابلند ا ء ثمہ ندا ء الی ھذا المسجد بل فی حد ود ہ و فنا ئہ و ارشد نا الحدیث فتعین ھذا محلا لہ ولنكشف الستر عن وجہ التحقیق فی مفا د ھذا اللفظ ۔ فاقول : و بالله التو فیق ۔اللفظ مركب و معنا ہ الحقیقی بحسب اجزا ئہ التر كیبیۃ وقو ع الشیئ فی |
(۵) ان سب كا كہنا ہےكہ تما م مما لك میں اسی پر عملدرآمد ہے اور تما م اہل اسلا م كا اس پر اجما ع ہے ۔ اب میں ان پا نچ متفقہ با تو ں كا تفصیلی رد اور بعد میں متفرقات سے بھی تعر ض كر وں گا الله تعالٰی سے ہی میر ی توفیق ہے اسی پر میر ا بھر و سا ہے اور اسی كی طر ف میر ا رجو ع ہے ۔ نفحہ ۱ : ہم احا دیث و فقہ سے یہ ثا بت كر آئے ہیں كہ جب اما م منبر پر بیٹھے تو اس اذا ن كا خطیب كے سا منے ہو نا مسنو ن ہے لیكن"سا منے"كے لفظ میں مخا لفین كی آنكھ ٹھنڈ ی كر نے وا لی كو ئی با ت نہیں بلكہ اس كا مفا د صر ف اتنا ہے كہ منبر كے سامنے خطیب كے چہر ے كے مقا بل ہو بیچ میں كو ئی حا ئل نہ ہو جو روئے خطیب كا آڑ بنے یہ با ت مسجد كے اندر اور با ہر دونوں ہی صو رتو ں كو شا مل ہے اس حد تك كہ مشا ہد ہ اور مقا بلہ با قی رہے اصل لفظ بین ید یہ (سا منے )كا مفا د اس كے سو ا نہیں البتہ فقہ نے ہم كو بتا یا كہ اذا ن مسجد كے اند ر نہ ہو نی چاہیے بلكہ مسجد سے اتنی دور ہو نی چا ہیے كہ مسجد میں نہ شمار كی جا ئے بلكہ مسجد كے حد ود اور اس كی فناء میں ہو احا دیث مبا ركہ نے بھی اسی كی طر ف رہنما ئی كی ہے جس سے اس مقا م كی تعیین ہو تی ہے ۔ اب میں اس لفظ كی تحقیق كرتا ہو ں لفظ"بین ید یہ"دو حر فوں سے مركب ان اجزا ئے تر كیبیہ كے اعتبا ر سے اس لفظ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع