30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بھا : (۱) نصو صھم ان ھذا الاذان بین ید ی الخطیب ۔ (۲) وتعبیر بعضھم فی مسئلۃ ان ایجا ب السعی بالاذان الاول او الثانی ھذا ا لا ذا ن با لذی عند المنبر ۔ (۳) وبعضھم با لذی علی المنبر ۔ (۴) وزعمو ا ان كو نہ دا خل المسجد ملا صق المنبر ھو التوارث فمن احتر س لنفسہ یجمل و یقول من القدیم والذی تجرأ یقول من لدن رسو ل الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم و خلفا ئہ الر ا شد ین رضی الله تعالٰی عنھم اجمعین ۔ (۵) وزعمو ان علیہ التعا مل فی جمیع البلدا ن واجمع علیہ جمیع اھل الا سلا م وتفر د بعضھم من بعض بشبھا ت اخری ذا ت عجر و بجر والعبد الضعیف بتو فیق الملك اللطیف عز جلا لہ یر ید ان یمر علیھا طردا طر دا و یبین عو ا رھا فر د ا فر دا فلنبتدی با لاول ثم نتبعھا البا قی الا ذل وما تو فیقی الا با لله علیہ |
بحثیں بھی كی ہیں یہ بند ہ ضعیف پہلے تو پا نچو ں متفقہ دلا ئل كا ذكر فر دًا فر دًا اس كا رد كر دے گا پھر انفرا دی لچر اور پو چ دلا ئل كی بھی خبر گیر ی كر یگا پہلی پا نچ با تیں یہ ہیں۔ (۱) اذا ن جمعہ كے لیے تما م فقہا ء نے بین ید یہ (خطیب كے سا منے )كا لفظ استعما ل كیا ہے جس ظا ہر ہے كہ یہ اذ ا ن مسجد كے اند ر منبر سے متصل ہو نا چا ہیے ۔ (۲) اس مسئلہ كو بیان كر تے ہو كہ جس اذان كو سن كر جمعہ كے لیے مسجد كی طر ف جا نا وا جب ہو جا تا ہے وہ اذان اول ہے یا ثا نی ۔بعض فقہا ئے یو ں تعبیر كی یہ وہی اذا ن ہے جو عند المنبر (منبر كے پا س) ہو تی ہے ۔ (۳) اور بعض فقہا ء نے علی المنبر (منبر كے اوپر )فر ما یا جو پاس سے بھی زا ئد قر یب پر دلا لت كر تا ہے ۔ (۴) معاند ین كا یہ گما ن فا سد ہے كہ اس اذا ن كا مسجد كے اندر منبر سے متصل ہو نا متو ا رث ہے (یعنی خلفًا عن سلف ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے ) توا رث كے بیان میں جس نے احتیا ط سے كام لیا تو اتنا كہہ كر رہ گیا كہ قد یم سے ایسا ہو تا آیا ہے اور جو جرأت بے جا كر تا وہ كہتا ہے كہ حضو ر صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے زما نہ اور خلفائے راشدین كے عہد مبا ر ك سے ایسا ہی ہو تا ہے ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع