30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیمنی علی الیسر ی و كونہ تحت السرۃ اوالصدر كماقا ل الشا فعی لم یثبت فیہ حدیث یوجب العمل فیحا ل علی المعھو د من و ضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھو د فی الشا ھد منہ تحت السر ۃ [1] ومن ذلك قولہ ایضاواستحسنہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحا ج الحلبی جدامانصہ لا اری تحریرالنغم فی الدعا ء كما یفعلہ القرا ء فی ھذا الز مان یصد رممن فھم معنی الدعا ء والسوال وماذلك الانو ع لعب فانہ لو قد رفی الشا ھد سا ئل حا جۃ من ملك ادی سوالہ بتحریرالنغم فیہ من الرفع والخفض و التغریب والرجو ع كا لتغنی نسب البتۃ الی قصد السخریۃ واللعب اذ مقام طلب الحا جۃ التضرع لا التغنی [2]اھ ۔ |
(كہ قیام كی حا لت میں)دایا ں ہا تھ با ئیں پر ركھا جا ئے یہ امر كہ وہ نا ف كے نیچے ہو یا سینہ كے نیچے،جیسا كہ امام شا فعی رحمۃ الله تعالٰی علیہ كامذہب ہے اس باب میں ایسی كوئی حدیث نہیں جس پر عمل واجب ہو تواس معاملہ كو مشا ہد ہ پر محمول كرنا چاہیے كہ حا لت تعظیم میں جہاں ہا تھ باند ھنامعلو م و مشہور ہو وہی اختیار كیا جا ئے اور یہ زیر نا ف ہے۔ انہی نظیر وں میں سے حضر ت محقق كا یہ قول بھی ہے جس كی ان كی شاگرد ابن امیرالحا ج نے تحسین بھی كی ہے دعامیں گلے با زی(گانا)كو میں جا ئز تصور نہیں كر تا جیسا كہ آ ج كل كے قاری كر تے ہیں اور یہ فعل ایسے لوگوں سے بھی صا در ہوتا ہے جو سوال اوردعا كے معنی سمجھتے ہیں حا لانكہ یہ ایك قسم كا كھیل اور مذاق ہے اگر مشا ہد ے كے اعتبار سے دیكھا جا ئے تو كوئی سا ئل جو با دشا ہ سے اپنی حاجت كی در خواست كر رہا ہواپنے سوال كوگو یوں كی طرح گا كراوا ز كی بلندی اور پستی گئكر ی اوراواز كی آرا ئش كے سا تھ مانگے توایسے سا ئل كو كھیل اور مذاق كی تہمت دی جا ئے گی كہ مقام الحا ح و زاری كا ہے نہ كہ گانے كا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع