30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اتد ری این انت كر ہ الصو ت [1] وقد تقبلھا ائمہ الامۃ با لقبول حتی ان فقہائھانصوا علی كراھۃ رفع الصوت فی المسجد با لذكرالا للمتفقھۃ كما فی الدرالمختار[2] وغیر ہ من معتمدات الا سفارفاذا كان ھذا فی الذكرفما ظنك بما لیس بذكر خا لص كا لاذان لاشتمالہ علی الحیعلین قا ل الامام العینی فی البنا یۃ شرح الھد ا یۃ فان قلت الاذان ذكرفكیف یقول انہ شبہ الذكر وشبہ الشیئ غیر ہ قلت ھولیس بذكر خا لص علی ما لا یخفی انما اطلق اسم الذكر علیہ با عتباران اكثرالفا ظہ ذكر[3]اھ وفی البحرالرائق عن المحیط تحت قول الكنز" یستقبل بھما القبلۃ و یلتفت یمیناوشما لابا لصلا ۃ والفلا ح لانہ فی حا لۃ الذكر والثنا ء علی الله تعالٰی والشھا دۃ لہ بالوا حد انیۃ ولنبیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم با لر سا لۃ فالاحسن ان یكو ن مستقبلا فاما الصلوۃ وا لفلا ح دعا ء الی |
كہا ں ہے آپ نے آوا ز كو نا پسند كیا۔" اس حدیث كوائمہ نے قبول كیا۔اورفقہا ء نے یہا ں تك تصریح فر ما ئی كہ مسجد میں بلند آوا ز سے ذكر كر نابھی مكر و ہ ہے ہا ں اہل فقہ كی دینی بات چیت كا استثنا ء ہے ایسا ہی در مختار وغیر ہ كتب فقہ میں مر قو م ہے تو جب ذكرالہی كا یہ حا ل ہے تواذان جو خا لص ذكر بھی نہیں كیو نكہ اس میں حیعلین تو نما ز كابلاوا ہے امام عینی نے بنا یہ شرح ہدا یہ میں فر ما یا"اگر یہ شبہ ہو كہ اذان تو ذكر ہے اس كو ذكر كے مشابہ قراردینا صحیح نہیں كیو نكہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مغا یر ت ہو تی ہے تو جواب یہ ہے كہ اذان ذكر خا لص نہیں ہا ں اس كے بیشترالفاظ ضرور ذكر ہیں اسی كا لحا ظ كر كے اس كو ذكر كہا جا تا ہے۔" كنز كے قول"كلمہ شہا دت كے وقت قبلہ كا استقبا ل اور صلا ۃ و فلا ح كے وقت دا ئیں با ئیں مڑیں"كی تشر یح میں بحرالرائق نے محیط سے نقل كیا"اذان میں كلمہ شہا دتین حا لت ذكر ہے كہ الله تعالٰی كی وحد انیت اور رسول كر یم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كی رسا لت كی گوا ہی ہے اوراس وقت استقبا ل قبلہ ہی منا سب ہے اور صلا ۃ و فلا ح میں نما ز كی طرف بلانا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع