30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الخطیب فكان الا صل فی المسا جد فیما لم یرد بہ الاذان ان لا تسمع الا ھمساولذا اتت الا حا دیث عــــــہ تنھی عن رفع الصو ت فیھا: |
اسی لیے احا دیث كر یمہ میں مسجد میں آوا ز بلند كر نے كی ممانعت آئی۔ |
|
عــــــہ:وللبیھقی عن ابی ھر یر ۃ رضی الله عالی عنہ كان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یكر ہ العطسۃ الشدیدۃ فی المسجد [1]،وفی البحرالرا ئق وغیر ہ:قا لواولا یجو ز ان تعمل فیہ الصنا ئع لانہ مخلص لله تعالٰی فلا یكو ن محلا لغیرالعبا دۃ غیرانھم قالوا فی الخیاط اذا جلس فیہ مصلحتہ من دفع الصبیان وصیانۃا لمسجدلابا س بہ للضر ورۃ ولا یدق الثو ب عند طیہ دقا عنیفا [2]انتھی وماذا عسی ان یر تفع صوت الثو ب بضر ب الید علیہ عندطیہ یستو ی وقد نھوا عنہ۔و كذلك من یعرف الادب ولا دین لمن لا ادب لہ نسا ل الله حسن التو فیق منہ عفی عنہ۔ |
بیہقی میں حضرت ابو ہر یر ہ رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی ہے كہ نبی كر یم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مسجد میں زور سے چھینكنے كو نا پسند جانتے بحرالرا ئق وغیر ہ میں ہے كہ مشا ئخ نے كہامسجد خا لص الله تعالٰی كی عبا دت كی جگہ ہے لہذاوہ غیر عبا دت كامحل نہ ہوگی سوائے اس كے جوانھوں نے درزی كے بارے میں كہا كہ جب وہ مسجد میں مصلحت كے لیے وہا ں بیٹھے یعنی مسجد كی حفا ظت اور بچوں كو مسجد سے دور ركھنے كے لیے تواس ضر ورت كے تحت اس كے لیے مسجد میں بیٹھ كر سلا ئی كر نے میں حرج نہیں اور وہ كپڑوں كو تہہ كر تے وقت انھیں سختی سے نہ جھا ڑے انتہی اور بسا اوقا ت كپڑوں كولپیٹتے وقت ان پر ہا تھ مار كر سید ھا كر تے ہو ئے اوا ز پید ا ہو جا تی ہے جس سے انہیں منع كیاگیا ایسے ہی وہ شخص جوا دب كو پہچانتا ہے اورجو با ادب نہیں اس كا كو ئی دین نہیں ہم الله سے اچھی تو فیق كے طلبگار ہیں(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع