30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن النظم ولم یعرج علی استد را كہ اصلا علمامنہ بان الاستدراك مستدرك لایبتغی نقلاھكذا ینبغی التحقیق والله تعالٰی ولی التو فیق ولولم یكن ھذا لكان ذكرجامع الر مو ز بمقابلہ تلك المعتمد ات العظیمۃ بل ما تفرد بہ الجلابی با زا ء ما اتفق علیہ اولئك الاكابرالا جلۃ مما ینبغی ان یستحی منہ فانہ لو فر ض لكان خلا فا لا اختلا فاوقد تقر ران الحكم والفتیابالمرجوح جہل و خر ق للا جما ع فكیف ولا خلا ف علی التحقیق لما علمت من جلیل التو ثیق و با لله تعالٰی التو فیق۔ نفحہ ۱۰:اذلم یقد روا علی شیئ تعلق بعض الو ھابیۃ بمافی |
چھو ڑ دیا اوراگر نہ مانا جا ئے تو یا تو جامع الر مو ز والے قہستانی صاحب ائمہ اعلام كے مقابلہ میں اكیلے ہوں گے اور یہ تسلیم كر لیا جا ئے تو جلابی اور قہستابی كا یہ قول مرجو ح رہ جا ئے گا كہ ان كی حثیت ائمہ سے اختلا ف كر نے كی نہیں اور یہ طے ہو چكا ہے كہ قول مرجو ح كے موا فق فتوی حكم جہل اور خر ق اجما ع ہے اور سچ پو چھو تو خلا ف بھی نہیں كہ ان كے قول فی المسجد كامعنی فی حدود المسجدواضح ہوگیا ہے۔ نفحہ ۱۰:جب مخا لفین كسی با ت پر قادر نہ ہو ئے توان میں سے بعض نے خانیہ عــــــہ اور |
عــــــہ:خانیہ كی عبار ت یوں ہے:ینبغی ان یو ذن علی المنارۃ او خارج المسجدولا یو ذن فی المسجد [1]مخا لفین كے مغا لطہ كامطلب یہ ہے كہ لفظ ینبغی كا تعلق دونوں سے ہے یعنی مسجد كے باہراور منارہ پراذان دینامناسب ہے اور مسجد میں اذان دینامنا سب نہیں تو مسجد كی اذان ز یادہ سے زیادہ خلاف اولی ہو ئی توگراندرون مسجد ہی اذان كاروا ج ہوگیا تو كو ئی حرج كی با ت نہیں پھراتناواو یلا كیوں ؟اعلٰیحضر ت كے پہلے جواب كامطلب یہ ہے كہ لفظ ینبغی كا تعلق صرف پہلے جملہ سے ہے اوردوسرا جملہ(لایوذن فی المسجد)اس سے خالی ہے جس كامطلب اندرون مسجد اذان كی ممانعت ہے جیسا كہ دیگر كتب فقہ میں لا یوذن یا یكرہ الاذان فی المسجد سے ظاہر ہے اس كی تائید صاحب بحر كی عبارت سے ہوتی ہے جنھوں نے یہ عبار ت خلاصہ كے حوالہ سے نقل كی اور ینبغی كا لفظ چھو ڑ دیا۔عبد المنان اعظمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع