30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مابنی المسجدلا جلہ من صلوۃ وا عتكا ف ونحوھما وقد رایت فی ھذہ المسا لۃ رسالۃ بخط العلامۃ ابن امیرالحا ج الحلبی الفھا فی الرد علی من اجا ز ذلك فی المسجد الاقصی،ورأ یت فی اخر ھابخط بعض العلماء انہ وافقہ علی ذلك العلامۃ الكما ل ابن الشریف الشا فعی [1]اھ وقلت فی جد الممتار بعد نقل ما ھناوغیر ہ من نظر ھذ ہ الكلما ت الشر یفۃ بعین الانصا ف لم یلبث فی الحكم بتحر یم كل احدا ث فی المسجدیكو ن فیہ شغل محل منہ لغیر مابنی لہ سوا ء كان بیتا او حانوتا او دكۃ او منار ۃ او غا سلا او خزانۃ او بئرا او حو ضا او شجرا،أو،أو،أوالخ و عنیت بہ المسجد با لمعنی الاول۔ وقال الامام ابن الحاج المكی فی المد خل و من ھذاالباب ایضاما احد ثو ہ فی المسجد من الصنا دیق المو بد ۃ وذلك غصب لمو ضع مصلی المسلمین[2] قال و من ھذا الباب الد كۃ التی یصعد علیھا المو ذنو ن للاذان یوم الجمعۃ بل ھی اشد من الصنادیق اذ یمكن نقل |
اصلی غر ض فو ت ہوگی اس مسئلہ میں ایك رسا لہ ابن امیرالحا ج كے ہاتھ كا لكھا ہوامیں نے دیكھا جسے آپ نے اس شخص كے رد میں تحر یرفرمایا تھا جس نے بیت المقد س میں اس كوروا ركھا تھا اوراسی كے آخر میں بعض علماء كی تحر یر تھی جس میں اس مسئلہ میں علامہ كما ل ابن ابی شر یف شا فعی نے ابن امیرالحا ج كی تا ئید كی تھی۔ میں نے جد الممتار میں ان سب با توں كولكھ كر تحر یر كیا جوان كو انصا ف كی نظر سے دیكھے گابلا تو قف اس قسم كی تمام ایجادات كو(جن سے تعمیر مسجد كی اصلی غرض میں خلل واقع ہو) حرام قراردے گا چا ہے گھر ہو یا دكان،چبو تر ہ ہو یامنارہ خزانہ ہو یا گو دام كنوا ں ہو یا حو ض،درخت ہو یا كچھ اورالخ ایسے تمام مقاما ت پر ہماری مراد مسجد سے قسم اول(اصل مسجد)ہے۔ امام ابن الحا ج مكی نے مد خل میں فر ما یا كہ اسی قسم سے وہ صند وق ہیں جن كو مسجد میں ركھنے كاروا ج لوگوں نے قائم كر لیا ہے یہ نما ز كی جگہ كوگھیر تا ہے اوراسی قسم كے وہ چبوترے ہیں جو مسجدوں میں اذان خطبہ كے لیے بعد میں بنائے گئے ہیں بلكہ ان كا حكم صندوق سے زیا دہ سخت ہے كہ وہ بضر ورت كھسك بھی سكتے ہیں جبكہ چبو تر وں میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع