30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(من قطعہ)ای با لغیبۃ او بعد م السداوبو ضع شیئ مانع[1]وقد نھی العلما ء عن غرس الشجرفی المسجد وعللوہ بانہ یشغل مكان الصلوۃ كما فی الخانیۃ و خزانۃ المفتین والھندیۃ و غیر ھاواما اباحتہ لتقلیل النز اذا كانت الارض نزۃ لا یستقراسا طینھا فللضر ور ۃ والضرورا ت تبیح المحظورا ت قا ل فی البحرفیغرس لیجذب عروق الا شجار ذلك النز فحینئذ یجوز،والا فلا[2]ومثلہ فی الظہیر یۃ والبزا زیۃ و غیر ھما قا ل فی منحۃ الخالق:وفی قولہ"الا فلا" دلیل علی انہ لا یجو ز احد اث الغرس فی المسجد ولا ابقاؤہ فیہ لغیر ذلك العذر ولو كان المسجد وا سعا كمسجد المقد س الشر یف ولو قصد بہ الا ستغلا ل او تجو یز ابقا ء ذلك بعد احدا ثہ ولم یقل بذلك احد بلا ضرورۃ دا عیۃ ولان فیہ ابطال |
مرقا ۃ میں"قطعہ"كامطلب یہ تحریرفر ما یا كہ صف سے غائب ہو كر یا صف میں لا یعنی كام كر كے یا كو ئی چیز بیچ صف میں ركھ كرجوصف كے ملنے سے مانع ہو علما ئے كرام نے، مسجدمیں درخت لگانے سے منع كیا كہ وہ نما ز كی جگہ گھیر ے گا ایسا ہی خانیہ خزانۃ المفتین وغیر ہمامیں لكھا ہے اور مسجد میں نمی ہو تواسے كم كر نے كے لیے درخت لگانا جا ئز ہے كہ یہ بہ ضرورت ہے اور ضرورتیں تو ممنو عا ت كو جا ئز كردیتی ہیں بحرالرائق میں ہے:"مسجد كے نم فر ش پردرخت لگا سكتے ہیں كہ اس كی جڑیں تر ی چو س لیں ورنہ در خت لگانا جا ئز نہیں"ایسا ہی ظہیر یہ وبزا زیہ وغیر ہ میں ہے۔منحۃ الخا لق میں بحر كے قول"والا فلا"پرفر ما یا یہ اس با ت كی دلیل ہے كہ مسجد میں مذكورہ با لا ضرورت سے درخت لگانا جا ئز ہے اور ضرورت نہ ہو تو نہ درخت لگانا جا ئز ہے نہ اس كاباقی ركھنا۔اوراگر مسجد وسیع ہو جیسے بیت المقد س اوراس كے كسی حصہ میں سامان ركھنا ہو تو یہ بھی منع ہے كہ اس سے مسجد كوگو دام اوردكان بنانے كی را ہ كھلے گی اوراس كےباقی ركھنے میں جبكہ بلا ضرور ت ہو مسجد میں دكان و مكان باقی ركھنے كی راہ استوار ہوگی حا لانكہ اس كا كو ئی قا ئل نہیں ہے اور مسجد میں ایسی چیزیں تیار كر نے سے مسجد كی تعمیر كی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع