30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعداد ذلك من الواقف ام لا[1] وكتبت فی جد الممتار اقول:نعم وشیئ اخرفوق ذلك وھوان یكو ن الا عداد قبل تمام المسجدیۃ فان بعد ہ لیس لہ ولا لغیر ہ تعر یضہ للمستقذرا ت ولا فعل شیئ یخل بحر متہ اخذتہ مما یا تی فی الو قف من الواقف لو بنی فوق سطح المسجد بیتا لسكنی الامام [2]اھ ثم فی احداثھا فی المسجد بعد ما صار مسجداموانع اخری فانھا تشغل مو ضع الصلوۃ و تقطع الصفو ف وقد قا ل صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من وصل صفا وصلہ الله و من قطع صفاقطعہ الله ۔روا ہ احمدوابو داؤد[3] والنسا ئی وابن خزیمہ والحا كم بسند صحیح عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھماقا ل العلامۃ القار ی فی المرقا ۃ |
مقر ر كر نا شر ط ہے یانہیں"میں نے جد الممتار میں اس پر لكھا یہ شرط تو ضر ور ی ہے ہی یہ بھی ضر وری ہے كہ واقف مسجد مكمل ہو نے سے پہلے ان امور كے لیے یہ جگہیں متعین كر ے مسجد مكمل ہو نے كے بعد نہ واقف كواس تعین كا اختیار ہے نہ كسی اور كو كہ اس صورت میں مسجد كوگندگی كے لیے پیش كر تا ہے۔میں نے اس كا استنبا ط كتاب الوقف كی اس عبار ت سے كیا كہ"واقف بھی مسجد كے اوپرامام كے رہنے كے لیے كوئی گھر نہیں بنا سكتا"مسجد مكمل ہو نے كے بعد اس میں ان امور كے لیے جگہ نكالنے میں دوسر ی قباحتیں بھی ہیں مثلا اس كی وجہ سے نما ز كی جگہ جا ئے گی اوراس كی وجہ سے صف منقطع ہو سكتی ہے جبكہ حدیث شریف میں ہے"جس نے صفیں ملا ئیں الله تعالٰی اسے اپنی رحمت سے ملا ئے گا اورجس نے صفیں قطع كیں الله تعالٰی اسے رحمت سے دور كر یگا " (احمد،ابو داؤد،ابن خزیمہ،اورحاكم نے عبد الله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہ سے بہ سند صحیح روا یت كی)ملا علی قار ی رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے |
[1] رد المحتار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ داراحیا ء الترا ث العر بی بیر وت ۱/ ۴۴۴
[2] جد الممتار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ المجمع الا سلامی اعظم گڑھ ہند ۱/ ۳۱۶
[3] سنن ابی دواد کتاب الصلوۃ باب تسو یۃ الصفوف آفتاب عا لم پر یس لا ہور ۱/۹۷،مسند احمد بن حنبل عن ابن عمرالمکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۹۸،المستد رك للحا کم کتاب الصلوۃ دارالفکر بیر وت ۱/ ۲۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع