30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان فیہ تقلیل الفا ئد ۃ الشر عیۃ و ذلك انہ رضی الله تعالٰی عنہ احدث الاذان الاول لما كثرا لنا س فماذا كان یغیرہ ھذا الثانی ان بقی علی ماكان علیہ فی عہد الرسالۃ والخلافتین كی یسمعہ من لم یسمع الاول كما تقد م عن البحرفا لذی یزعم ان عثمن احد ث فیہ ماقطعہ من كو نہ اعلاما یقول بملاء فیہ ان عثمن غیرالسنۃ و نقص الفا ئد ہ و نقض المصلحۃ فكان معاذ الله محض محا دۃ للسنۃ و مضا دۃ وان عدینا عنہ،فا دنی احوا لہ ان لا فا ئد ہ فیہ فیكو ن عبثا فی الدین والعبث كما فی الھد ا یہ[1]حرام و یكو ن لغوا"وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾ "[2] نفحہ ۷:تحر ر ما تقرران بحث بقا ئہ بعدلخصوص الانصا ت غیر محر ر بل و قع مصا دما للنص ولحر مۃ الصحابۃ والاجما ع ائمتناو نصوص فقہا ئنا فكیف یعرج علیہ،بل كیف یحل ان یلتفت الیہ |
كا فائدہ ختم ہوجائے۔اورحضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ كے بارے میں كسی ایسی حركت كا تصور بھی نہیں كیا جاسكتا كہ یہ تو دانستہ فائدہ شرعیہ كو ختم كرنا ہے۔حضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ نے تو دوردراز تك پھیلے ہوئے لوگوں كی اطلاع كے لئے اذان اول كا اضافہ فرمایا تھا،تواذان ثانی كو عہد رسالت اور عہد صاحبین كی طرح اعلام غائبین كے لئے باقی ركھنے میں كہ جن لوگوں نے پہلا اعلان نہ سنا ہو یہ دوسرا اعلان سن كرتو مسجد میں ضروراجائیں گے كیا حرج تھا كہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ دوسری اذان كی اذانیت كو ختم كردیتے،تواس كی اذانیت كے ختم كرنے كی نسبت حضرت ذوالنورین كی طرف كرنا ان پرالزام لگانا ہے كہ انھوں نے سنت بدلی،فائدہ شرعیہ گھٹایا۔اوردینی مصلحت توڑی۔ ورنہ اتنا تو ہے كہ ایك بے فائدہ كام كیا۔اور ہدایہ میں ہے كہ العبث حرام ہے،ایك لغو فعل ہوا،اور قرآن عظیم ان كے اوصاف بیان كرتا ہے،وہ لغو سے پرہیز كرتے ہیں۔ نفحہ۷:ہماری گزشتہ بحثوں سے یہ بات ثابت ہوگئی كہ اذان ثانی كواب صرف مقتدیوں كو خطبہ كے لیے خموش كرانے كی غر ض سے باقی ركھنا صحیح نہیں بلكہ یہ نص،حر مت صحابہ اور ہمارے ائمہ كے اجما ع اور نصوص فقہا ء كے خلا ف و مصا دم ہے تواب یہ با ت نہ ماننے كے قابل ہے نہ لا ئق التفا ت، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع