30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و كل نبی مجاب[1] والعجب ممن یقول ان عدم اعتبار تغییر عثمن ضلا لۃ بتعلیمہ ولا ید ری المسكین ان نسبۃ تغییرالسنۃ الی عثمن ھوالضلا ل البعید، ھذاوجہ و كفی بہ وجھاوجیھا الثانی حیث یسو غ الاعلام مكر را فمن ذا ا لذی اخبر كم ان عثمن قطعہ عنہ أاقرانی قطعتہ ام امرالموذن ان لا یتو بہ اوامر ہ ان یخففہ او یخفیہ ام تقولو ن علی عثمان ما لا تعلمون ولا تعلمو ن انكم مسؤلو ن قا ل تعا لی: "وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾"[2] الثالث حصول الا علام كان لا زم الاذان ان كان علی وجہ المعہو د علی عہد الرسا لۃ فلا ینقطع عنہ الابا حد ا ث فیہ یقعدہ عن الا علام السا لف و كیف یظن ھذابعثمن |
و كل نبی مجاب روایت فرمایا،پس ان لوگوں كی كیسی بوالعجبی ہے،حضرت عثمان رضی الله تعالٰی عنہ كی طرف تغییر سنت كی نسبت كا انكار كرنیوالوں كے فعل كو ضلالت شنیعہ بتاتے ہیں۔اور خود ان مسكینوں كو یہ معلوم نہیں كہ آپ كی طرف تغییر سنت كی نسبت كرنابہت بڑی گمراہی ہے اوراس كے مردود ہونے كی سب سے بڑی وجہ خود وہی ہے۔دوسری بات كا یہ جواب بھی ہے كہ آپ لوگوں كو كیسے معلوم ہوا كہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ نے اذان خطبہ كی اذانیت كو ختم كردیا۔كیا انھوں نے خود اس كا اقرار كیا یا انھوں نے مؤذن كو حكم دیا تھاكہ وہ اذان كی طرف رجوع نہ كرے یا انھوں نے مؤذن كو حكم دیا تھا كہ اس اذان میں تخفیف كرے یا اس كو پست آواز سے كہے،یا آپ لوگ امیرالمومنین پر بے جانے بوجھے افتراء كر رہے ہیں۔اور سمجھتے ہیں كہ ہم سے باز پرس نہ ہوگی۔الله تعالٰی تو فرماتا ہے:اس پر كان بھی نہ دھرو جس كا علم نہیں،بے شك كان،آنكھ،دل سب سے پوچھا جائے گا۔"اس پر یوں بھی غور كرنا چاہئے كہ عہد رسالت كی اذان خطبہ اگرحسب سابق اعلان كا فائدہ دے رہی تھی توا س كو اذانیت سے نكالنے كے لئے اس میں كچھ ایسا تصرف ناروا ضروری تھا كہ اس سے اعلام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع