30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ونظم الدر لمشر و عیۃ تكرارہ فی الجمعۃ دون تكرارھا[1]،اھ۔فلولم یكن الثانی اذانامثل الاول فا ین التكرار۔وثا لثا صر یح نص البحرفی البحر لان تكرارہ مشر وع كما فی اذان الجمعۃ لانہ لاعلام الغا ئبین فتكر یر ہ مفیدلا حتما ل عد م سما ع البعض بخلا ف تكرارالاقامۃ اذھو غیر مشر و ع [2]،اھ ورابعا لم تغیرالاذان عما كان علیہ بحدوث الاول لان الا علام حصل با لاول فلا یحصل با لثانی فانسلخ ضرورۃ عن الاذانیۃ و كو نہ اعلاما للغا ئبین ام لان امیرالمومنین عثمن ھوالذی قطعہ عما كان الاول با طل اجماعا فما التثو یب الا علام بعد الا علام و كرہ المتقد مو ن واستحسنہ المتا خر ون فكان ھذا اجما عامنھم علی ان الا علام مما یقبل |
كے۔"اوردرمختار كی عبارت یوں ہے:"اذان كی تكرارجمعہ میں مشروع ہے نہ كہ اقامت كی تكرار۔"پس اذان ثانی اگراذان اول كی طرح ہی اذان نہ ہو تواس كی تكرار كس طرح ہوگی۔(۳)علامہ بحر نے اپنی كتاب بحرالرائق میں صریح عبارت ارشاد فرمائی:"اس لئے كہ اذان كی تكرار شرعا جائز ہے،جیسے جمعہ كی اذان كہ بار بار ہوتی ہے اس لئے كہ وہ غائبین كے اعلان كے لئے ہوتی ہے۔تواس كے بار بار كرنے میں فائدہ ہے كہ كسی نے پہلے نہ سنا ہو تواب سن لے گا،البتہ اقامت كی تكرارجائز نہیں۔"(۴)اذان خطبہ كے اذان ہو كراذان نہ ہونے كی وجہ یا تو یہ ہوگی كہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ كی ایجاد كردہ اذان سے اعلام غائبین كی ضرورت پوری ہوگئی تواب اذان خطبہ كی ضرورت نہیں رہی،تو یہ اذان نہ رہی۔یا یہ وجہ ہوگی كہ حضرت عثمان غنی رضی الله تعالےٰ عنہ نے پہلی اذان ایجاد فرما كر یہ كہا كہ اب اذان خطبہ اذان نہ رہی بلكہ اس سے اطلاع حاضرین كا كام لیا جائے گا۔پہلی بات تو باطل ہے كہ تثویب بھی تواعلام بعد الاعلام یہ ہے جسے متقدمین نے مكروہ كہا اور متاخرین نے مستحسن گردانا۔تو متاخرین اور متقدمین دونوں نے مل كر یہ طے كردیا اعلام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع