30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی سید نا الامام الا عظم ولیس حا صلہ الا شیئان رفع الامان عن عامۃ مسا ئل الشرح والفتاوی الغیرالمعز یۃ الی احدوابطا ل سا ئر ما فیہ من المعز یات الی مشا ئخ المذاھب لان الاول اذا لم یقبل لعد م العلم لكو نہ عن الامام فا لا خراحدی بالرد للعلم بعدم كو نہ عن الامام وانت تعلم ان فیہ ابطا ل ثلثی مسا ئل المذھب او ثلثۃ اربا عھاوانما كان علینا اتبا ع مارجحو ہ وصححو ہ كماقا لوا افتو نا فی حیاتھم فكیف بما اتوابہ جا ز مین بہ من دون اشعار بخلا ف فیہ والله الموفق۔ نفحہ ۶:اذلم یا ت لھم تخصیص حاولوا ان یخرجوا اذان الخطبۃ من جنس كی یخرج بنفسہ مما یشمل شیئ من احكام الاذان من دون حا جۃ الی تخصیص و ذلك ان الاذان اعلام الغا ئبین وا لاقامۃ |
تواس با ت كی علامت ہے كہ یہ مذہب ہے تو مسئلہ دائر ہ میں یہ شك پید ا كر نا كہ یہ خاص طور سے امام اعظم رحمہ الله كی طرف منسوب نہیں اس لیے قابل قبول نہیں اس كامقصد دو باتیں ہیں عام مسا ئل شر عیہ و فتاوی جن كی نسبت كسی كی طرف نہ ہوان سے امام كی نسبت مر تفع ہو جا ئے اور بقیہ مسائل جو كسی شیخ یا امام كی نسبت مسا ئل امام كی طرف منسوب ہوں ان كاردوابطا ل ہو كہ جب غیر منسوب مسا ئل امام كی طرف منسوب نہ ہو نے كی وجہ سے غیر مقبول ہو ئے تو یہ مسا ئل جو با لتصر یح غیر كی طرف منسوب ہیں ان كے ردوابطا ل میں كون سا تردد كہ ان كے بارے میں تو یہ بالیقین معلو م ہے كہ یہ مسا ئل امام سے مروی نہیں اس كانتیجہ یہ ہوگا كہ مذہب كے دوثلث یا تین ربع مسا ئل اكارت ہو جا ئیں گے جبكہ حقیقت حا ل یہ ہے كہ مشا ئخ نے جن مسا ئل كی تصحیح یا ترجیح فر ما ئی ان پر عمل كر نابھی ضروری ہے كہ ان كی زند گی میں ان كے فتاوے مقبول اور معمول بہا تھے توان مسا ئل سے كیوں روگردانی جا ئز ہوگی،جن كوان بزرگوں نے یقین كے سا تھ كسی اختلا ف كا اشارہ كئے بغیر روا یت كیا الله تعالٰی تو فیق عطا فر ما ئے۔ نفحہ ۶:جب نصوص كی تخصیص ان كے بس سے با ہر ہو ئی تو سوچا كہ اذان خطبہ كو ہی اذان كی جنس سے خارج كردیں تا كہ یہ خو د اذان كی جنس سے خارج ہو جائے اور ہم تخصیص كی زحمت سے نجا ت پا جا ئیں تو وہ كہنے لگے كہ اذان تو غیر مو جو د مصلیوں كابلاوا ہے اوراقامت مسجد میں مو جو د مصلیوں كو اطلاع ہے جیسا كہ ائمہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع