30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جامعا فی الكا فی و ھو كونھاذكرالله فی المسجد ای ذكراموقتا كالاذان و كان یرد علیہ ان الاذان لیس ذكرا فی المسجدلكراھتہ فیہ فاولاہ بان المراد فی حدود المسجد فلوان اذان الخطبۃ كان یكو ن فی المسجدلما احتج الی التاویل اصلا فقیا س خطبۃ الجمعۃ علی اذان الخطبۃ بجامع كون كل منھماذكراموقتا فی المسجد كان اذن صحیحا قطعا وای شیئ كان احق بقیا س الخطبۃ من اذانھا لكنھما اولا فارشدابارشاد بین من الشمس ان اذان الخطبۃ ایضامكر و ہ فی المسجدوای نص انص تر ید من ھذاولله الحمد۔ نفحہ ۵:لیست المسئلۃ من النوازل ولا عزوھا الی احد من المشا ئخ بل ارسلو ھا ارسا لاوالذاكر و ن لھا اولئك الا ئمۃ الاجلا ء وامثا لھم كا لامام قا ضی خان ونظرا ئہ اذا ارسلوا دل علی انہ المذھب لما عرف من عا دتھم عزو تخر یجا ت المشا ئخ الی المشا ئخ قا ل فی الغنیۃ ذوی الا حكام فی مسئلۃ النعا س صرح بہ قاضی خان من غیراسنا دہ لاحد فافتضی كو نہ المذھب [1]،اھ فا لتشكیك فیہ بانہ غیر معز و ر |
اپنی كتاب كا فی میں متعین طور سے ذكر كیا تھا كہ خطبہ جمعہ اوراس كی اذان كے درمیان علت مشتر كہ ان كا ایساذكر ہو نا ہے جو مسجد كے اندر ہو تا ہے اس توجیہ پر یہ اعترا ض وارد ہورہا تھا كہ اذان تو مسجد كے اندر ہو نے وا لاذكر نہیں یہ تو مسجد كے اندر مكر وہ ہے توان حضرا ت نے جواب دیا كہ تعلیل میں اذان كو ذكر مسجد كہنے كامطلب قلب مسجد نہیں حد ود مسجد ہے اوراذان خطبہ اند رون مسجد نہ ہو تی ہو حد ود مسجد میں تو ہو تی ہے اس اعتبار سے اس كو ذكر مسجد كہنا صحیح ہے تواذان خطبہ كے مسجد كے اندر مكر وہ ہو نے كی اس سے بڑی اور كو ن سی نص چاہیے۔ نفحہ ۵:یہ مسئلہ كتب نوا زل كانہیں ہے نہ اسے مشا ئخ میں سے كسی كی طرف منسوب كیا گیا ہے راو ی وہی ائمہ اعلام ہیں جیسے امام قا ضی خا ں اوران كے ہم مر تبہ حضرا ت ائمہ اور قاعدہ یہ ہے كہ یہ لوگ جب كسی مسئلہ كو مرسل روا یت كر تے ہیں تو یہ مسا ئل مذھب میں شمار ہو تے ہیں كیو نكہ ان مشا ئخ كی عا دت كر یمہ یہ ہے كہ جب مشا ئخ میں سے كسی كی تخر یج روا یت كر تے ہیں تو مسئلہ كے سا تھ ان كانام ضرور لیتے ہیں چنانچہ غنیۃ ذوالا حكام میں ہے اونگھنے كے مسئلہ كی تصریح امام قا ضی خا ں نے فر ما ئی اور یہ مسئلہ جب كسی كی طرف منسوب نہیں ہے |
[1] غنیۃ ذوی الا حکام علی ھامش الدررالحکام کتاب الطہارۃ بیان نواقض الو ضو میر محمد کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع