30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النفحا ت الحدیثیۃ أتزعم الجہلۃ ان اذان الخطبۃ لیس لہ من الحكم اماماذكرفی باب الجمعۃ من كو نہ بین یدی الخطیب مثلا كلابل یعتبر بہ سا ئرالا حكام المذكورۃ لمطلق الاذان فی باب الاذان فلولم یكفہ البیان ثمہ من این تاتی تلك الا حكام لھذا الاذان و ھذا شیئ لا یخفی حتی علی الصبیان ولكن الو ھابیۃ واتباعھم قو م لا یفقہو ن۔ ھذاما كان طر یق العلم رحم الله الامامین الا تقان والمحقق علی الا طلاق واجذل قربھما یوم الطلاق حیث داو یا جہل ھولا ء بو جہ لم یبق لھم عذرًاولا حیلۃ و ذلك ان الامام صا حب الہد ا یۃ فی مسئلۃ ندب الطہارۃ لخطبۃ الجمعۃ قاسرھا علی الاذان و ذكر ما یو ھم ان الجامع كو نھا شر ط الصلوۃ و ھو ظا ہرا لبطلان فالامامان الشارحان عدلامنہ الی ماعین الامام النسفی |
میں ہے جمعہ كے باب میں نہیں اس لیے یہ حكم اذان جمعہ كے لیے نہیں ہوگا۔اس كا تفصیلی جواب تو نفحا ت حدیثیہ كے گیارہویں نفحہ میں گزرا اس نفحہ فقہیہ میں بھی مزید گزارش ہے كہ شایدیہ نا دان یہ سمجھ رہے ہیں كہ اذان جمعہ كے سا تھ وہی احكام خا ص ہیں جو باب جمعہ میں مذكور ہیں مثلا اس اذان كا خطیب كے سامنے ہونا ایسا ہر گز نہیں ہے وہ سارے ہی عمو می احكام جواذان سے متعلق ہیں گوصرف باب اذان میں ہی ان كا ذكر كیوں نہ ہو سب كے سب اذان جمعہ پر بھی عا ئد ضرور ہوں گے تواگر صرف باب اذان كابیان ہی اذان جمعہ كے لیے كا فی نہ ہو تو جمعہ كی اذان میں ان پر عملدرامد كی كیا سبیل ہوگی ؟یہ بات تو بچوں پر بھی واضح ہے مگر نا دان وہابیہ نا دانی سے با ز نہیں آتے۔ اس اجما ل كی تفصیل یہ ہے كہ صا حب ہد ایہ نے خطبہ جمعہ باوضو مسنو ن فر ما یا اور خطبہ كے مسئلہ كواذان كے مسئلہ پر قیاس كیا كہ جیسے اذان كے لیے طہارت مسنو ن ایسے خطبہ كے لیے بھی اس سے یہ وہم ہوا كہ ان دونوں كے درمیان علت جامعہ ان دو نوں كانما ز كے لیے شر ط ہو نا ہے یہ با ت غلط تھی اس لیے ان دونوں شارحوں نے مذكورہ با لا علت كو چھو ڑ كراس كی علت جامعہ كی طرف رجو ع كیا جس كوامام نسفی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع