30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اٰیا ت القران و ھذا التعلیل یمنع من شر و ح النحو [1] اھ فجعلہ مشیا علیہ۔ وفی نھرالفا ئق فی مسئلۃ ما اذا زوج البا لغۃ غیر كفؤ فبلغھا فسكتت لا یكو ن رضا عند ھماو قیل فی قول الامام یكو ن رضا ان المزو ج ابا اوجداجزم فی الدرا یۃ با لاول بلفظ قا لوا [2]،اھ۔ فجعلہ جز مابہ كذا ھھنا جزم الامامین بو جھین : الاول مقصو د ھما ھھنا تعلیل القول المعتمد وھو قول الامام ان لا فصل بین اذان المغرب واقامتہ بجلسۃ،راجع الہدایۃ وانظرالی قولھما یفید كذاوھو كذلك شر عا فھمابصدد اثبا تہ و تحقیقہ لا التبر ی عنہ و تزئیقہ۔ والا خر مانقلنامنھمامن قولھما الآخرحیث اولا فیہ كلام الكا فی۔وجز مابكرا ھتہ دا خل المسجد فو ضح الحق |
كتابوں كوچھو نا تواس عبارت میں لفظ قا لوا كہہ كر سابقہ حكم كی تا ئید ہی كی" نہرالفا ئق میں ایك مسئلہ بیان كیا"با لغہ كی شا دی غیر كفو میں كردی گئی اسے خبر ہو ئی تو چپ رہی۔یہ خموشی صا حبین كے نزدیك رضامندی نہیں۔اورامام صا حب كے قول پر رضا مندی ہے بشر طیكہ شا دی با پ دادانے كی ہو درا یہ میں اول كولفظ قا لوا سے بیان كیا ہے۔" اسی طرح ان دونوں اماموں نے یہا ں دو نوں ہی طرح اثبات مدعا كیا ہے كہ پہلے قول میں وہ امام كے قول معتمد كی علت بیان كر نا چا ہتے ہیں(مغر ب میں اذان اوراقامت كے بیچ میں جلسہ سے فصل جا ئز نہیں)اور قا لوا لا یو ذن فی المسجد سے اسكی تا ئید كر نا چا ہتے تھے تا كہ اس كی مخا لفت اور تبر ی كے در پے رہیں(تصدیق كے لیے ہد ا یہ كا یہ مقام اوراس كی وضا حت میں ان دونوں اماموں كاقول یفید كذاو ھم كذلك شر عا دیكھا جائے) اوردوسر ے قول میں كا فی كے قول ھو ذكرالله تعالٰی فی المسجد كی تاویل میں فر ما یا ای فی حد ود ہ اور بغیر قا لوا كے یہ جزم فر ما یا كہ اذان مسجد میں مكر و ہ ہے تو یہا ں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع