30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نفحہ ۳:بتو فیقہ تعالٰی ظھر ت فا ئد ۃ لفظۃ"قا لوا"فی ھا تین العبار تین ولیست فی غیرھماولیس كلما قالوا "قالوا"ارادوا تبرأ۔اوافا دۃ خلا ف كما یشھد بہ التتبع ولا ھو عــــــہ مصطلح كل احد بل قا ل السید العلامۃ فی حا شیہ الدرالمختار۔۔۔[1]۔ وفی رد المحتارفی مسئلۃ مس المحدث كتب الا حا دیث والفقہ قا ل فی الخلا صۃ یكر ہ عند ھماوالا صح انہ لا یكر ہ عند ہ و مشی فی الفتح علی الكراھۃ فقال قا لوا یكر ہ مس كتب التفسیر والفقہ والسنن لانہا لا تخلو عن |
جملہ كو پنج وقتہ اذان كے لیے مخصوص مان لیا۔تو یہ حضرا ت اگر عبار ت كا اسلو ب بدلے اور لفظ قا لوا كا اضا فہ كئے بغیر لا یؤ ذن فی المسجد كہہ دیتے تو یہ وہم ہو سكتا تھا كہ حكم بھی اسی معہو د اذان(پنجو قتہ)كے لیے ہے جس كاذكرجملہ سابقہ میں ہے لیكن جب عبارت كاسیاق بدل گیا اور قالوا كے اضافہ نے اسے ایك علیحد ہ جملہ كردیا تو وہ وہم با لكلیہ ختم ہوگیا اور یہ امر با لكل واضح ہوگیا كہ یہ ایك علیحد ہ حكم جملہ اذانوں كے لیے مطلق اور عام ہے جس میں خطبہ كی اذان بھی شامل ہے بز ر گوں كے كلام میں ان دقائق كی طرف رہنما ئی صرف تو فیق ا لہی كا كر شمہ ہے الله تعالٰی اس كے علاوہ آ داب كی بھی تو فیق بخشے۔آمین! نفحہ ۳:الله تعالٰی كی تو فیق سے ان دو نوں اماموں كی عبار ت میں لفظ قا لوانہیں ہے اورایسابھی نہیں ہے كہ جب لفظ قا لوا كہیں تو ما سبق سے تبر ی اورافا دہ خلا ف كا ہی فا ئد ہ مرادلیں نہ یہ سب كی تسلیم شد ہ اصطلا ح ہے جیسا كہ كلام علما ء كے تتبع و تلا ش سے ظا ہر ہوا۔ ردالمحتار میں بے وضوادمی كے حدیث و فقہ كی كتابوں كے چھو نے كے بارے میں فر ما یا"خلا صہ میں ہے كہ صا حبین كے نزدیك چھو نامكر وہ ہے اور صحیح یہ ہے كہ امام صا حب كے نزدیك چھو نامكر و ہ نہیں ہے اورفتح القدیر میں اس كی كرا ہت كا حكم فر ما یا اور كہا كہ لوگوں نے كہا كہ مكر وہ ہے بے وضو كا تفسیرفقہ اور سنت كی |
|
عــــــہ:ومن نسب فی مسئلتنا ھذہ زیا دہ لفظۃ"قا لوا"الی الامام فقیہ النفس قا ضی خا ں فقد كذب وافتر ی كما تری منہ حفظہ ربہ۔ |
اورجس نے اس مسئلہ میں لفظ قا لوا كی ز یا دتی كی نسبت امام قاضیخاں كی طرف كی غلط كیا جیسا كہ ان كی عبارت سے پتہ چلا۔ منہ حفظہ ربہ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع