30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایضا انہ علی المئذ نۃ وان لم تكن فی الفنا ء ۔ وثانیًا الحكم علی مطلق او عا م بمفہو م مردد انما یقتضی ان لا یخلوشیئ من افرادہ عن كلا الو جہین اما كو ن كل فردیجر ی فیہ الوجہان فلا ، و ھذا ظاھر جدا ۔عبار ۃ نسختی الفتح والعنا یۃ ۔ واما الاذان فعلی المئذنۃ فان لم یكن بیا ء تحتیۃ ای الاذان علیھا ففی فنا ء المسجد[1]،وعدم كو نہ علیہا یشمل الترك والكف فید خل فیہ كل اذان، و كذا علی نسخۃ تكن بتاء فو قانیۃ والضمیر للمنار ۃ فان المراد الكو ن الشر عی والو جو د حسیا غیرالو جو دلشیئ شر عاو علی التنزل فزیادتھما لفظۃ قا لوا قطعت ھذا الحكم عن سنن السابق و ذلك لان لا یوذن بمعنی لا یفعل الاذان و ھو بعمومہ |
ان پراذان ،اذان علی المئذ نہ ہو ئی تواس حكم میں كہ مئذنہ پراذان نہ ہو توصحن مسجد میں ہواذان جمعہ بھی دا خل رہی۔ ثانیًا: (یہ جملہ اذان مئذ نہ پر ہو نی چا ہیے نہ ہو توصحن مسجد میں دی جا ئے ) مطلق یا عا م (اذان )كے لیے ایك حكم مردد ہے اورایسے تردیدی حكم كا یہ تقا ضانہیں ہو تا كہ مطلق یا عا م كا ہر ہر فرد حكم كے دو نو ں پہلو ؤ ں سے متصف ہو بلكہ مطلب صرف یہ ہو تا ہے كہ اس كو كو ئی فرد بھی حكم كے دو نو ں پہلوؤں سے یكسر خا لی نہ ہو كوئی فرد حكم كے ایك پہلو سے متصف ہواور كو ئی دوسر ے پہلو سے اس میں كو ئی حرج نہیں ہے ۔(اس تشر یح كی رو سے مذكورہ با لا جملہ كا مطلب یہ ہوا كہ اذان خوا ہ پنج وقتہ ہو یا اذان خطبہ سب كو مئذنہ پر ہونا چاہیے (لائق اذان ) مئذنہ ہی نہ ہو یاا س پراذان نہ ہو سكی تو صحن مسجد میں ہو پس مذكورہ با لا حكم اذان جمعہ كو بھی شامل ہوا ) (اعترا ض ) فتح القدیراور غا یۃ البیان كی مذكورہ با لا عبارت كا ظا ہر تو یہی ہے كہ یہ حكم صر ف نما ز پنجو قتہ كے سا تھ ہی خا ص ہو كہ مئذ نہ كی ضرورت اسی كے لیے ہے ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع