30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للمحقق علی الاطلا ق :قولہ (ای الامام برھان الدین صا حب الھد ا یہ ) والمكان فی مسا لتنا مختلف یفید كو ن المعھو د اختلا ف مكانھماوھو كذلك شر عا فا لا قا مۃ فی المسجد ولابدواما الاذان فعلی المئذنۃ فان لم یكن ففی فنا ء المسجد وقا لوا لا یؤذن فی المسجد [1]، اھ وقالا فی الكتابین فی مسئلۃ سنیۃ الطہار ۃ لخطبۃ الجمعۃ قیا سا علی الاذان مانصہ : الاولی ما عینہ فی الكا فی جامعاوھو ذكرالله تعالٰی فی المسجد ای فی حدودہ لكراھۃ الاذان فی داخلہ[2]، اھ فھذہ تسعۃ عشر نصاوختم العشر ین بكلام الامام ابن الحا ج المكی مالكی فانہ رحمہ الله تعالٰی عقد فی المد خل فصلا للنھی عنہ وفی نفی فعلہ من السلف الصا لح مطلقًا فد خل فیھم ائمۃ المذا ھب الاربعۃ جمیعاومن قبلھم من الصحابۃ والتابعین رضی الله تعالٰی عنھم اجمعین و ھذا مانصہ۔ |
مصنف امام بر ھان الدین صا حب ہد ا یہ كا قول كہ (مكان ہمارے مسئلہ میں مختلف ہے ) اس امر كا فا ئد ہ دیتا ہے كہ اذان واقامت كے مقا ما ت كا اختلا ف ہی معہودومعر و ف نیز حكم شر عی ہے كہ اقامت مسجد میں ہو نا ضر وری ہے اوراذان مئذنہ پراور مئذنہ نہ ہو تو مسجد كے صحن میں ائمہ نے فر ما یا كہ مسجد میں اذان نہیں دی جا ئے گی۔ اوردونوں شارحین نے اپنی دونو ں كتابو ں میں جمعہ كے لیے طہارت مسنو ن ہو نے كے مسئلہ میں اذان پر قیا س كرتے ہو ئے فر ما یا"كا فی میں دونو ں مسئلہ میں علت جا معہ یہ بتا ئی كہ خطبہ اوراذان دو نو ں ہی مسجد كے اند ر خدا كاذكر ہے جن كے لیے طہارت سنت ہے ، مسجد كے اند ر كا مطلب حدود مسجد ہے كیو نكہ اذان دا خل مسجد مكر و ہ ہے ۔" یہ انیس نصوص ہیں اور بیسو یں نص امام ابن الحا ج مكی مالكی رحمۃ الله علیہ نے اپنی كتاب مد خل میں ایك فصل تحر یر فرمائی جس میں مسجد كے اند راذان كی كراہت بیان فر ما ئی اور بتا یا كہ مطلقًا سلف صا لحین نے اس فعل كی نفی كی ہے تواس عموم میں ائمہ اربعہ داخل ہو گئے اوران سے پہلے كے صحابہ و تابعین بھی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع