30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی تجریدالكشاف لابی الحسن علی بن القاسم:كان لہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مؤذن واحد فكان اذا جلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانز ل اقام الصلوۃ [1]،اھ وفی تفسیرالنیسابوری:النداء الاذان فی اول وقت الظہرو قد كان لرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مؤ ذن واحد فكان اذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد[2]الخ مثل مافی الكشاف۔ وفی تفسیرالخطیب ثم الفتوحات الالھیۃ:قولہ تعالٰی "اذانو دی للصلوۃ"المراد بھذاابلنداء الاذان عند قعودالخطیب علی المنبر لانہ لم یكن فی عہد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نداء سواہ فكان لہ مؤذن واحداذاجلس علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانزل اقام الصلوۃ ثم كان ابو بكرو عمرو علی بالكو فۃ رضی الله تعالٰی عنھم علی ذلك حتی كان عثمان رضی الله تعالٰی عنہ و كثرالناس و |
اورجب آپ منبر پرسے اترتے نماز قائم فرماتے۔ اورتجرید كشاف لابی الحسن علی بن القاسم میں ہے:حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كاایك مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھااوراپ جب منبرسے اترتے تونماز قائم فر ماتے۔ تفسیر نیشاپوری میں ہے نداء اول وقت ظہر میں اذان ہے حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كاایك مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھاالخ(موافق تفسیركشاف) تفسیر خطیب وفتو حات الہیہ میں ہے الله تعالٰی كافر مان"جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے"اس نداسے وہ اذان مراد ہے جوامام كے منبر پر بیٹھنے پر دی جاتی ہے كہ حضور صلی الله تعالٰی وسلم كے عہد میں اس اذان كے علاوہ تھی ہی نہیں ایك ہی مؤ ذن تھاجب آپ منبر پر بیٹھتے تو وہ دروازہ پراذان دیتا جب آپ منبرسے اترتے تونماز قائم ہوتی پھرابو بكرو عمرو علی(رضی الله تعالٰی عنھم)كو فہ میں اسی پرعامل رہے مدینہ میں عہد عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ میں آبادی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع