30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فكان اذاجلس علی المنبراذّن علٰی باب المسجد فاذا نزل اقام الصّلوۃ [1]اھ وكذافی النھرالماد من البحر لابی حیان:كذالك كان فی زمان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كان اذ اصعد علی المنبراذن علی باب المسجد فاذانزل بعدالخطبۃ اقیمت الصلوۃ و كذاكان فی زمن ابی بكرو عمرالی زمن عثمان كثرالناس وتباعدت المنازل فزاد مو ذناآخرعلی دارہ التی تسمی الزوراء فاذاجلس علی المنبراذن الثانی فاذانزل من المنبراقیمت الصلوۃ ولم یعب احد ذلك[2] وفی تقریب الكشاف(لابی الفتح محمد بن مسعود) كان لرسول الله صلی الله تعالٰی وسلم كذالشیخین بعد ہ مؤ ذن واحدیو ذن عندالجلوس علی المنبرعلی باب المسجد [3]،اھ |
جواپ كے منبر پر بیٹھنے كے وقت دروازہ مسجد پراذان دیتے پھرآپ منبرسے اتركر نماز قائم فرماتے۔ نہرالماد من البحر لابی حیان میں بھی اسی طرح ہے حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے زمانہ پاك میں ایساہی ہوتاتھاكہ جب آپ منبر پر بیٹھتے تو مسجد كے دروازہ پراذان ہوتی،اورجب خطبہ كے بعداپ اترتے تونماز قائم ہوتی ایسے ہی صاحبین كے عہدتاابتداء عہد عثمان غنی رضوان الله علیہم اجمعین ہوتارہا پھرعثمان كے زمانہ میں مدینہ شریف كی آبادی بڑھ گئی لوگ زیادہ ہوگئے اور مكانات دورتك پھیل گئے تواپ نے ایك مؤ ذن كااضافہ فر مایااورانہیں حكم فرمایاكہ پہلی اذان آپ كے مكان زوراء پر دیں پھرجب آپ منبر پر بیٹھتے تو مؤ ذن دوسری اذان دیتاپھراپ منبرسے اتركر نماز قائم فر ماتے اس اضافہ پركسی نے آپ پراعتراض نہیں كیا۔ تقریب كشاف لابی الفتح محمد بن مسعود میں حضور صلی الله تعالٰی وسلم اوراپ كے بعد شیخین رضی الله تعالٰی عنہماكے عہد میں ایك ہی مؤ ذن تھاجوامام كے منبر پر بیٹھنے كے وقت مسجد كے دروازے پراذان دیتاتھا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع