30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و جدانہ فی غیرہ مع ھذاماھی الاشہادۃ نفی ولا سیمامن قوم عمی ولوابصروالنظرواان العلماء لم یز الوایوردونہ و یعتمد ونہ ففی تفسیرالخازن (اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ)اراد بھذاالاذان عند قعو دالامام علی المنبر لانہ لم یكن فی عہد رسول الله تعالٰی علیہ وسلم نداء سواہ ولابی داؤ دقال كان یؤذن بین یدی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبریوم الجمعۃعلی باب المسجد [1]، اھ مختصرا۔ وفی تفسیرالكبیر:قولہ تعالی"اذانو دی"یعنی النداء اذاجلس الامام علی المنبریوم الجمعۃ وھو قول مقاتل وانہ كماقال لانہ لم یكن فی عہدرسول الله تعالٰی علیہ وسلم نداء سواہ كان اذاجلس علیہ الصلوۃ والسلام علی المنبراذن بلال علی باب المسجدو كذا |
نہ ملنے كی كو ئی شكایت نہیں اوریہ بات اسی قبیل سے ہے كہ كسی چیز كے نہ ہونے پراند ھوں كی گواہی پیش كی جائے ورنہ علماء تواس حدیث كامسلسل ذكركرتے رہے اوراس پراعتماد كرتے رہے تفسیر خاز ن میں ہے:(جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے)اس سے وہ اذان مراد ہے جوامام كے منبر پر بیٹھنے كے وقت ہوتی ہے اس لیے كہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے زمانہ میں اسكے علاوہ اوراذان نہیں تھی۔ابو داؤد كی حدیث میں ہے كہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جمعہ كے دن جب منبر پر بیٹھتے توان كے سامنے مسجد كے دروازہ پراذان دی جاتی تھی اھ مختصرًا تفسیركبیر میں ہے:الله تعالٰی كاقول"جمعہ كے دن جب نماز كے لیے اذان دی جائے"یعنی نداجو جمعہ كے دن امام كے منبر پر بیٹھتے وقت دی جاتی ہے یہی مقاتل كاقول ہے اورایساہی بیان كیاگیاہے كہ حضورصلی الله تعالٰی كے زمانہ میں اس اذان كے علاوہ كو ئی اذان نہیں دی جاتی تھی جمعہ كے دن جب حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم منبر پر بیٹھتے تو بلال رضی الله تعالٰی عنہ مسجد كے دروازہ پراذان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع