30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سقف جار،كذاھھنا،والثانی ان الفقہاء لایذكرونہ فی باب الجمعۃ سنیۃ اذان الخطبۃ خارج المسجد فی حدودہ انمایذكرون استنان كونہ بین یدی الامام قل لھم ولم یذكرونہ ثمہ فانہ لایختص بہ بل ھو حكم مطلق الاذان الشرعی فمحل ذكرہ ھوباب الاذان لاباب الجمعۃ وقد ذكروہ فیہ نعم كونہ بین یدیہ كان من خصوصیات اذان الخطبۃ فذكروہ فی باب الجمعۃ اشتمل الحدیث علی حكمین خاص وعام وكان من حقھماان یذكرالخاص فی باب الخاص و العام فی باب العام و كذالك فعلواولكن العوام لا یفقھون ھذاعلی تسلیم زعمھم والافعلماؤ نالم یخلواباب الجمعۃ ایضاعن افادۃ ھذاالحكم كما ستری بعون العلی الاعلی۔ نفحہ۱۲:اذاعجز وامن كل جہۃ قالواھذاحدیث لم یعرج علیہ الناس فكان مہجوراعند ھم و ھذا كما تری قول من لم یترعرع عن العامیۃ شیئا الحدیث وكل شیئ انمایطلب فی معدنہ ولایضرہ عدم |
دوسراسوال یہ كہ فقہاء اس اذان كے لیے خارج مسجد ہونے كی شر ط باب جمعہ میں ذكر نہیں كرتے بلكہ صر ف اتنابتاتے ہیں كہ سنت یہ ہے كہ امام كے سامنے ہو جواب یہ ہے كہ خاص باب جمعہ ذكر نہ كرنے كی وجہ یہ ہے كہ یہ سنت صر ف اذان جمعہ كے ساتھ مختص نہیں بلكہ تمام اذانوں كی سنت ہے اس لیے علماء نے اس كو مطلق اذان كے باب میں ذكركیاہاں خطیب كے سامنے ہونااذان جمعہ كے ساتھ خاص تھاتواس كو باب جمعہ میں خصوصیت كے ساتھ ذكركیاخلاصہ كلام یہ ہے كہ حدیث حضرت سائب ابن یز یدرضی الله تعالٰی عنہ اذان كے دو خاص و عام حكم كوشامل تھی اصولااس كو دو علیحد ہ علیحدہ ابواب میں ذكركر ناچاہیے تھافقہائے امت نے ایساہی كیایہ جواب اس تقدیر پرہے كہ سائل كے قول كوتسلیم كیاجائے ورنہ ہمارے علماء كرام نے ابواب جمعہ كو بھی اس بیان سے خالی نہیں ركھاان شاء الله آئند ہ ہم اس كی شہادتیں پیش كریں گے۔ نفحہ ۱۲:اورجب ہر طر ف سے عاجزآگئے تو كہاكہ لوگوں نے اس حدیث كاچر چاہی نہیں كیاتو یہ مترو ك العمل رہی مگریہ بات ایسے شخص كی ہوسكتی ہے جو عوام كے درجہ سے بالشت بھر بھی بلند نہ ہوسكاكیونكہ ہر چیز كو وہیں تلاش كر ناچاہیے جہاں اس كاٹھكانہ ہواور دوسری جگہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع