30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الفقھاء علیہ و قدسردنالك اسماء ھم و قدارشد حدیث السائب رضی الله تعالٰی عنہ الیھما معا۔۔ فالاولی قولہ بین یدی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر،والاخری قولہ علی باب المسجد فان باب المسجد فی حدودہ لافی جو فہ و خصوصیۃ الباب ملغاۃ قطعاوانمالایكون علیہ لكونہ وجاہ المنبر لولاذالك لم یكن علی الباب بل علی حافۃ المسجداو فی فنائہ بین یدی الامام فانكشف بہ سوالان كثیراماتوردھماجھلۃ الھنودالاول ان العلماء لم یذكروامن سنن ھذاالاذان كونہ علی الباب قل لھم لم یذكرونہ مع انہ غیر مقصود فی ھذا الباب و مامثلہ الاكمثل من یری حدیث ان بلال رضی الله تعالٰی عنہ كان یؤ ذن علی سطح بیت ستنا نوارام زید بن ثابت رضی الله تعالٰی عنھما فیحسب ان السنۃ فیہ كونہ من سطح بین الجیران حتی لو كان علی منارۃ او علی جدارالمسجد كان مخالفاللسنۃ وھذااجہل منہ بان القصد كان علی محل عال لاالی خصوص |
ان فقہاء كے نصوص میں ہے جن كانام ہم بیان كر چكے ہیں اور سائب ابن یز یدرضی الله تعالٰی عنہ نے اپنی اس حدیث میں ان دونوں ہی سنتوں كابیان كیاہے كہ اذان خطبہ خطیب كے منبر پر بیٹھنے كے بعداس كے سامنے ہو ئی اوریہ كہ اذان مسجد كے دروازہ پرہو ئی اور دروازہ مسجد مسجد كی حد پرہوتاہے مسجد كے اندر نہیں لیكن اذان كی سنت میں دروازہ كی كو ئی خصوصیت نہیں اہمیت صر ف منبركے سامنے ہونے كوہے اگركسی مسجد میں منبركے سامنے دروازہ نہ ہوتوایسانہیں ہے كہ دروازہ ڈھونڈ كروہیں اذان دی جائے بلكہ خطیب كے سامنے حدو د مسجداور صحن مسجد میں ہوگی اس سے دوسوالوں كا جواب ہوگیاجواكثركیاجاتاہے اول یہ كہ علماء نے اس اذان كی سنتوں میں اس كادرواز ہ پرہوناذكر نہ كیاجواب یہ ہے كہ اس لیے اس كاذكرنہ كیاكہ درواز ہ اس باب میں غیر مقصو د ہے اس حدیث میں اس كاذكرایسے ہی ہے جیسے دوسری حدیث میں سطح بیت نوارام زید كاكہ حضرت بلال رضی الله تعالٰی عنہ نوارام زید پراذان دیتے تھے تواگركو ئی یہ گمان كر ے كہ اذان میں یہ سنت ہے كہ پڑوسیوں كے گھركی چھت پرہواوركو ئی شخص منارہ یامسجد كے دروازہ كے اوپركھڑاہو كر دے توسنت كے مخالف ہے تو غلط ہے كیونكہ اس گھركی چھت كے ذكرسے مقصدتو یہ ہے كہ بلند جگہ پراذان ہونہ یہ كہ پڑوسی كے گھركی چھت پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع