30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
متتابعین او قبل ان یتماسا۔ ثم اولالیس مبناہ الاعلی زعم المقابلۃ بین"بین یدیہ"و"علی الباب"وماھوالاوھم فی تباب فلو وجد العاطف لم یدل علی التو زیع بل علی جمع جمیع و ھو مرادنا۔ ثم ثانیًایلزم علی الثانی وجو دالتثو یب فی الجمعۃ علی عہدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وھو خلاف ماصرحوابہ بل السائب نفسہ رضی الله تعالٰی عنہ یقول لم یكن للنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مؤ ذن غیرواحدو كان التاذین یوم الجمعۃ حین یجلس الامام یعنی علی المنبر رواہ البخاری [1] ثم ثالثًا:ھذاالاذان ھوالمحكوم علیہ فی الحدیث بكونہ بین یدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وبكونہ علی الباب فكیف تفصیل بینھمابان ماعلی |
مقدرہے اورایت كامطلب یہ ہے كہ مسلسل دو مہینے روزہ ركھے یاعورت سے صحبت سے پہلے روزہ ركھے۔ پھراوّلًا: اس كی تاویل كی بنااس واہمہ پرہے كہ لفظ بین یدیہ اور علی الباب میں تقابل ہے دونوں ایك مصداق پر صادق نہیں آسكتے اور چونكہ یہ وہم باطل ہے اس لیے او بھی یہاں تقسیم كے لیے نہیں ہوگابلكہ اس بات كے اظہاركے لیے ہوگاكہ لفظ بین یدیہ اورعلی الباب دونوں ایك ہی ہیں یعنی جمع كے لیے ہوگا۔ ثانیا"علی الباب"اور"بین یدیہ"دوالگ الگ نداؤ ں سے متعلق ماننے پریہ لازم آئیگاكہ عہدرسالت میں نماز جمعہ كے لیے تثو یب ہوتی تھی اوریہ تصریحات علماء كے بالكل خلاف ہے بلكہ خو دسائب بن یز یدرضی الله تعالٰی عنہ یہی فر ماتے ہیں كہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام كے عہد مسعود میں ایك ہی مؤ ذن ہوتاتھاجوامام كے منبر پر بیٹھتے ہی اذان دیتایہ روایت بخاری شریف كی ہے۔ ثالثًا:حدیث شریف میں توایك ہی اذان كے بین یدیہ اورعلی الباب ہونے كی تنصیص ہے اس تفصیل كی گنجائش كیسے نكل سكتی ہے كہ دروازہ پراذان سے مختلف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع