30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
محذوف قبل قولہ"علی باب المسجد" |
یہ كہاجائے كہ الفاظ حدیث میں لفظ"علی الباب" |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) وبہ ارتفع التعارض فی الروایات،وزین القول بالفاظہ الفصیحۃ فھذااشد ۃ [شفاھتہ لارزانتہ ]لم یقنع بحذف حرف واحدولتو ھمہ ان"یؤذن"فی الحدیث علی۔۔۔۔ ولعمرالله لو جو ز امثال ھذہ الحذفات فی الكلام لھان تحو یل كل نص الی ماتہو ی الانفس للئام فیقول من یبح الزناللاعزب الحق ان فی قولہ تعالی" وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی " [1] تقدیرایعنی بعد ماتزو جتم لان المتاھل عند ہ ما یغنیہ من الز ناالمحر م علیہ بخلاف الاعزب فانہ محتاج الیہ و یقول من یبیح قتل الشبان الحق ان فی قولہ تعالٰی " وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی |
اوراس سے تمام روایتوں كاتعار ض بھی اٹھ جاتاہے مسمی اعجاز الحق نے اپنی اسی بات كو فصیح الفاظ سے آراستہ كیاہے لیكن اس كی یہ تاویل بھی سخت گندی ہے كہ اس نے ایك لفظ كے مقدرماننے پر قناعت نہ كی پورامركب غیرمفید كر ڈالااوریہ سو چ كركہ حدیث شریف میں یؤ ذن كامطلب چونكہ اذان معروف ہے اس لیے باب مسجد والااعلان ہوگااوراس كو ملاعلی قاری رحمۃ الله تعالٰی علیہ كی طرف منسو ب كر دیاوالله العظیم اگراس طرح كی خرافات كلام میں جائز ہوں توہر شحص كواپنی ہوائے نفس كے مطابق قران عظیم كی آیتیں پھیر ناآسان ہوگامثلاجولوگ كہتے ہیں كہ غیر شادی شد ہ كو زناجائز ہے وہ یہ كہنے لگیں گے كہ آیت شریفہ " وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی " (زناكے قریب مت جاؤ)میں یہ ٹكڑامقدرہے بعدتزوجتم یعنی جس كی شادی ہو چكی ہو وہ زناكے قریب بھی نہ جائے كیونكہ شادی كر لینے والے كو زناكی حاجت نہیں بخلاف غیر شادی شد ہ كے اس كے پاس بیو ی نہیں (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع