30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الباب كمااعتر ف الان،كیف لایكون الذی علی الباب محاذیاللامام ولاحائل ثمہ یحجبہ من النظر فصدق بین یدیہ فتاویلك باطل باستقامۃ المعنی الظاھر،واستقامتہ نقتضی لبطلان التاو یل فكان و جو د حاكم بعد مہ و ھذاھواشنع الاباطیل۔ نفحہ ۹:اشنع منہ زعم ان عــــــہ العاطف |
كے سامنے
اور محاذی ہے تو دروازہ پركھڑاہونیوالاامام كے محازی و مقابل كیوں نہ ہوگاجب كہ
دونوں كے درمیان نفحہ ۹:اس سے بری تاویل یہ ہے كہ |
|
عــــــہ:و مثلہ بل ابعد منہ قول اعجاز الحق ان فی روایۃ محمد بن اسحق تقدیرایعنی اذجلس النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی المبنراذن بین یدیہ(بعد ماكان) علی باب المسجد فالنداء لابالفاظ مخصوصۃ علی باب المسجد كان فی زمن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم والشیخین،ثم جعل عثمٰن ھذاالنداء اذاناای بالفاظ مخصوصۃ علی مقام عال ھوالزوراء علی ماصرح بہ فی المرقاۃ [1]فھذاھوالتحقیق الحقیق بالقبول |
عــــــہ اوراس سے بھی زیادہ بعیداعجازالحق كاقول ہے كہ محمد بن اسحق كی روایت میں پوراایك جملہ مقدرہے یعنی عبارت یوں ہے" حضوراكرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جب منبر پرتشریف فر ماہوتے تو دروازہ پرہونے كے بعداذان آپ كے سامنے ہوتی"یعنی وہ نداجو دروازہ پرہوتی اذان كے الفاظ میں نہیں ہوتی تھی ایساحضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اور شیحین كے زمانہ میں ہوتارہاپھرعثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ نے اپنے زمانہ میں اس كواذان ہی كے الفاظ میں مقام زوراء پركہلاناشرو ع كیاجو مسجدسے دورایك بلند جگہ تھی ایساہی ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے مر قاۃ شرح مشكوۃ میں تحریر فرمایا یہ تحقیق لائق قبول ہے، (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع