30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مفسول مزدول۔ فاولًا: تجوز بعید من دون قرینۃ والتكلم بمثلہ تغلیط للسامع وتلبیس للسنۃ فلایظن بالصحابی۔ ثانیًا:فیہ تضییع قولہ علی باب المسجد لان الباب لماكان محاذیاللامام فالقائم بین یدی الامام قائم علی محاذاۃ الباب قطعااینماكان فذكرہ بعد ذكرہ لیس فیہ تخصیص ولاتو ضیح ولاافاد ۃ شیئ مقصو داذلم یكن القصد شرعاالاالی مواجھۃ الامام لاالی محاذاۃ الباب فبقی لغواعبثالاطائل تحتہ۔ وثالثًا:ان من اخنع الاباطیل مایقضی وجو دہ علیہ بالرحیل و ذلك ان التاو یل انمایحتاج الیہ اذالم یستقم المعنی الظاہروانمااحلت الظاہر ۃ لمنافاتہ بز عمك قولہ بین یدیہ الالمحاذاۃ بلاحائل كمااعتر فہ بہ ابن اخت خالتك فالذی قام لصیق الامام اذاكان علی محاذاۃ |
تھایہ بے وزن اورحقیركلام ہے۔ اوّلًا بلاقرینہ معنی بعید مراد لینااورایساكلام بولناسامع كو غلط فہمی میں ڈالنااورتلبیس سنت ہے صحابی رسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایسی حركت نہیں كرسكتے۔ ثانیًا:اس تاویل كی روسے"علی باب المسجد"كالفظ بے سو د ہے كیونكہ دروازہ جب امام كے سامنے ہے تو جوامام كے سامنے كھڑاہے وہ دروازہ كے سامنے بھی كھڑاہے تولفظ"بین یدیہ" كے ذكركے بعد لفظ"علی باب المسجد"نہ تواس پہلے معنی كی تو ضیح ہو ئی نہ تخصیص اور نہ ہی اس لفظ سے كسی معنی كاافادہ مقصود كیونكہ بقول مؤ ول مقصدتوامام كے سامنے كھڑاہوناہے دروازہ پركھڑاہونانہیں ایسی صورت میں لفظ علی باب المسجد لغواور بیكارہواجس سے كو ئی فائد ہ حاصل نہیں۔ ثالثًا:اولایہ تاویل خو داپنے وجو د كے ابطال كی دلیل ہے كیونكہ تاویل كی ضرورت تب ہوتی ہے كہ كلام كے معنی ظاہر درست نہ ہوں اور مخالف نے علی باب المسجد كو محاذات پراس لیے محمول كیاكہ اس كے نزدیك بین یدیہ اورعلی باب المسجد میں تضادتھااور بین یدیہ كے معنی محاذات بلاحائل ہیں جیساكہ تمہاری خالہ كے ابن اخت نے اس كااعتراف كیااوراب تمھاری تاویل سے جب امام كے پاس كھڑاہونے والادروازہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع