30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نورالدین کاکوئی نہیں،اگرچہ یہ پسرولدالحلال ہے کہ دخترزنا شرعًا درباہ میراث دخترنہیں تو وہ لڑکی خود ہی نورالدین کی بیٹی نہ تھی اس کا بیٹا نواساکیونکر ہوسکتاہے،پھر جس حال پرہم اسے وارث کہہ آئے اس تقدیرپربھی زوجہ رحیم الدین کے مال میں اس کاکوئی حق نہیں کہ نانا کی بھاوج ہونا شرعًا ذریعہ توریث نہیں خصوصًا جومال کہ وہ اپنے بھتیجے کو ہبہ شرعیہ کرکے قابض کراچکی اس سے اسے بھی کچھ تعلق نہ رہا وہ خاص اس موہوب لہ،کامال ہوچکا اس میں اس شخص کادعوٰی اور بھی بے جاہے،اورہبہ جس قدراشیائے منقسمہ جداگانہ بلاشرکت وشیوع تھا اور واہبہ نے موہوب لہ،کو اس پر قبضہ کاملہ دلادیا اس قدرمیں تام وکامل ہوگیا اور جن اشیائے موہوب لہ،کو قبضہ کاملہ نہ دلایا خواہ یوں کہ سرے سے قبضہ ہی نہ ہوا یا ہواتوشیئ موہوب جدا ومنقسم ہوکر قبضہ میں نہ آئی اس قدرمیں باطل ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
|
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل[1]۔ |
میم سے مراد سپردگی کے بعد واھب یاموہوب لہ میں سے کسی ایك کامرجانا ہے اور سپردگی سے پہلے مرگیا تو ہبہ باطل ہوگا۔(ت) |
اس صورت میں یہ اشیاء جن کاہبہ ناتمام رہابعد موت واہبہ وارثان واہبہ کو وراثۃً پہنچے گی،رہامتبنی کرنا وہ شرعًا کوئی چیزنہیں،
|
قال اﷲ تعالٰی "اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا الِّٰٓیۡٔۡ وَ لَدْنَہُمْ ؕ"[2]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ ان کی مائیں نہیں مگر وہ جنہوں نے ان کوجنا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۱:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ محمد علی نے زوجہ رحموا،ابن غلام محمد دوبنت بجو،منیرن او رایك مکان خام جس میں دوسوگز،زمین تھی چھوڑکرانتقال کیا پھربجو مادررحمواور شوہروپسر ودختر چھوڑکرفوت ہوئی پھررحمو نے پسرغلام محمد دختر منیرن چھوڑ کر وفات پائی غلام محمد نے بعد پدراس مکان خام کا ایك حصہ کچے گمے اور ایك حصہ بیرونی پختہ اینٹ سے بصرف خویش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع