30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وجودہ وقتہ ولم تقر بمضیہا وان لتمامھما لایثبت النسب و قیل یثبت،وزعم فی الجوھرۃ انہ الصواب الا بدعوتہ لانہ التزمہ [1] الخ ملخصًا۔ |
دوسال سے کم مدت میں بچہ جنے کیونکہ بوقت طلاق حمل کے موجود ہونے کا امکان ہے اور عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہیں کیا اور اگروہ پورے دوسال پربچہ جنے تونسب ثابت نہیں ہوگا اور کہاگیاہے کہ ثابت ہوجائے گا،جوھرہ میں گمان کیاکہ یہی درست ہے مگرجب شوہر دعوٰی کرے تو نسب ثابت ہوجائے گا کیونکہ شوہر نے اس کا التزام اپنے اوپرکرلیا الخ ملخصًا۔(ت) |
پس اگرزن مطلّقہ نورالدین کی وہ لڑکی جسے سائل نطفہ زنا سے بتاتاہے کسی ایسی ہی صورت پرپیداہوئی تھی جس میں شرعًا وہ دخترنورالدین قرارپائی اگرچہ جہال دخترزنا کہیں توبیشك اس دخترکابچہ اگرچہ وہ اس کے بطن سے معاذاﷲ بذریعہ زناہی پیداہوا ہو نورالدین کانواسا اور اس کے ذوی الارحام سے ہے کہ اگرنورالدین کاکوئی وارث اہل فرض وعصبات سے نہ تھا تو وہ مستحق ترکہ نورالدین ہے اوراگرنورالدین اپنے کسی بھائی سے پہلے مرا تو ان بھائیوں میں جو سب سے پیچھے مراہوکہ نہ اس کاکوئی عصبہ ہو نہ سوائے زوجہ کے کوئی ذی فرض تو اس کا ترکہ اس لڑکے کوپہنچے گا کہ یہ اس کے بھائی کانواساہے،ولدالزنا کانسب اگرچہ باپ سے نہیں ہوتاشرعًا اس کاکوئی باپ ہی نہیں وللعاھر الحجر[2] (اورزانی کے لئے پتھر۔ت)مگر مال سے یقینا ثابت اور اس کی طرف سے ضرور وارث ہوتاہے اورنانا یانانا کے بھائی کی قرابت قرابت مادری ہے تو اس ذریعہ سے اس کی وراثت میں شك نہیں۔
|
فی الھندیۃ ولدالزنا لا اب لہ،فترثہ قرابۃ امہ و یرثھم [3] اھ ملخصا۔ |
ہندیہ میں ہے کہ ولدالزنا کاکوئی باپ نہیں ہوتا چنانچہ اس کی ماں کے قرابت دار اس کے وراث نہیں بنیں گے اور وہ ان کا وارث بنے گا اھ تلخیص(ت) |
ہاں اگر مطلّقہ نورالدین کی دختر کانسب شرعًا نورالدین سے نہ ٹھہرے تو اس کا یہ بیٹا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع