30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وزوجہ حمیدالدین موسومہ عظیم خاں خلف محبوب خانصاحب سے وہ لڑکا زنازادہ حصہ چاہتاہے۔درست یاممنوع اورخط تبنگی اور وہ ہبہ نامہ جو زوجہ رحیم الدین اور حمیدالدین نے جائداد منقولہ وغیرمنقولہ اور مقبوضہ وغیرمقبوضہ حصہ یافتہ کیاتھا جائز ہے یا منسوخ؟ اس مسئلہ میں جو حکم بالتحقیق ہو بیان فرمائیں بحوالۃ الکتاب رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین۔
الجواب:
شرع مطہر کو اثبات نسب میں نہایت احتیاط منظور،جہاں ادنٰی گنجائش پائی ہے نسب ثا بت فرمائی ہے،اورحتی الامکان ہرگز ولد الزنا نہیں ٹھہراتی۔صدہا صورتیں نکلیں گی کہ عوام اپنے بے علمی سے بچہ کو ولدالزنا سمجھیں اور شرعًا وہ ثابت النسل ہو مثلًا یہی مطلقہ کی صورت ہے اگرعورت کوطلاق رجعی دے اور اس نے ہنوز انقضائے عدت کا اقرار نہ کیا تو اگرچہ طلاق سے بیس برس بعد بچہ پیدا ہو شوہر کا ہی قرارپائے گا،یونہی اگرطلاق بائن یامغلظ تھی اور ہنوز دوبرس نہ گزرے کہ بچہ ہوگیا یادوبرس کے بعد ہوا اورشوہر نے اقرار کیا کہ یہ میرابچہ ہے توبھی اس ہی کاٹھہرے گا۔یوں ہی بہت صورتیں ہیں جن میں زعم جہّال مخالف شرع مطہر ہے۔درمختار میں ہے:
|
یثبت نسب ولد معتدۃ الرجعی وان ولدت لاکثر من سنتین ولولعشرین سنۃ فاکثر لاحتمال امتداد طھرھا وعلوقھا فی العدۃ مالم تقر بمضی العدۃ والمدۃ تحتملہ کمایثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ جاءت بہ لاقل منھما من وقت الطلاق لجواز |
طلاق رجعی کی عدت گزارنے والی عورت کے بچے کانسب ثابت ہوگا اگرچہ وہ دوسال سے زائد عرصہ میں بچہ جنے، چاہے بیس سال یا اس سے زیادہ گزرجائیں کیونکہ طہر کے درازہونے اور عدت ك دوران حمل ٹھہرنے کا احتمال موجود ہے جب تك عورت نے عدت کے گزرجانے کااقرارنہ کیا ہو اور وہ مدت بھی عدت کے گزرجانے کا احتمال رکھتی ہو جیسا کہ بغیر دعوٰی کے احتیاطًا بائنہ طلاق والی کے بچے کانسب ثابت ہوتاہے جبکہ وہ طلاق کے وقت سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع