30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
چنانکہ ازمثال پرظاہر ست بواپسی حامل جواب مطلوب والسلام یکے ازخدم افقر البرایا عبدالرسول محب احمدعفی عنہ۔ |
جیسا کہ مثال سے خوب ظاہرہے حامل ہذا کے ہاتھ جواب مطلوب ہے۔آپ کامخلص خادم مخلوق میں سب سے زیادہ محتاج عبدالرسول محب احمد،اس کی مغفرت ہوجائے۔(ت) |
الجواب:
|
مولانا المکرم اکرمکم الاکرام السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جواب جناب حق وصواب ست فی الواقع درصورت مستفسرہ بکر عصبہ زیدومستحق باقی ودرقول درجزء جدہ داخل است کہ در فرائض بلکہ ہمہ ابواب فقہ از جد ہمیں پدرپدریاجد قریب پدر مراد نباشد بلکہ ازنسب پدرجملہ ذکور کہ در نسبت بایشان زن نیاید بذلك عرفوہ قاطبۃ وھو المراد حیث اطلق سراجیہ در ہمیں بیان تقسیم عصبات فرمود ثم الجد ای اب الاب وان علا [1]خود درہمیں عبارت درمختار است ثم الجد الصحیح و ھو اب الاب وان علا[2]۔در شریفیہ است ھو الذی لا تدخل فی نسبتہ الی المیت ام |
مولانا مکرم رب کریم آپ کو اکرام بخشے،السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ،۔جناب کاجواب حق اوردرست ہے۔فی الواقع صورت مسئولہ میں بکرزید کا عصبہ اوربچے ہوئے مال کا مستحق ہے اور در کے قول"میت کے دادا کی جزء"میں داخل ہے کیونکہ فرائض بلکہ فقہ کے تمام ابواب میں دادا سے فقط باپ کا باپ کاجدقریب ہی مراد نہیں ہوتابلکہ باپ کے نسب کے تما مذکر جن کی میت کی طرف نسبت میں کوئی عورت واسطہ نہ آتی ہو۔تمام نے دادا کی یہی تعریف کی ہے اور جب اس کا اطلاق کیاجائے تویہی مراد ہوتاہے۔صاحب سراجیہ نے تقسیم عبارت کے اسی بیان میں فرمایا پھرجد یعنی باپ کا باپ اگرچہ اوپرتك ہو۔خود درمختار کی اسی عبارت میں ہے پھر جد صحیح اور وہ باپ کا باپ ہے اگرچہ اوپرتك ہو۔شریفیہ میں جد صحیح وہ ہے جس کی میت کی طرف نسبت میں ماں داخل نہ ہو جیسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع