30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
استفتاء بدست حامل ابلاغ والا خدمت ست۔ |
حاصل کرنے کے بعد آپ کی خدمت میں عرض پیش کرنے سے مشرف ہو رہاہوں کہ حامل ہذا کے ہاتھ خدمت اقدس میں استفتاء ارسال ہے جس کی صورت اس طرح ہے: |
اصل المسئلۃ زید
صورت ھــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــکذا
مادر خواہر ابن ابن ابن عم جدالاب
۲ ۳ ۱
|
قال فی الدرثم العصبات بانفسھم اربعۃ اصناف جزء المیت ثم اصلہ ثم جزء ابیہ ثم جزء جدہ [1] الخ۔قال العلامۃ الشامی قولہ ثم جزء جدہ اراد بالجد مایشمل اب الاب ومن فوقہ [2]الٰی اٰخرھا،واﷲ اعلم الساطرالوارد محب احمدعبدالرسول عفی عنہ فریق مخالف رادریں مسئلہ مخالفتے است میگوید کہ مراد از جزء جدہ فقط عم اب وعم جد است نہ آنہا کہ فوق اینہا اند ونزد شامی علیہ الرحمۃ از من فوقہ صرف ہمیں دواہل قرابت مراد اند |
در میں کہا پھرعصبہ بنفسہ کی چارقسمیں ہیں:میت کی جزء،پھر میت کی اصل،پھرمیت کے باپ کی جزء،پھر میت کے دادا کی جزء الخ۔علامہ شامی نے کہا کہ مصنف کے قول"پھرمیت کے دادا کی جزء"میں دادا سے مراد وہ ہے جو باپ کے باپ اور اس سے اوپر والے کو شامل ہو الخ۔اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے، راقم السطور محب احمد عبدالرسول اس کی مغفرت ہوجائے۔ مخالف فریق اس مسئلہ کی مخالفت رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دادا کی جزء سے مراد فقط باپ کاچچا اوردادا کا چچاہے نہ کہ اس سے اوپروالے۔اورشامی علیہ الرحمہ کے نزدیك بھی اوپر والوں سے مراد یہی دواہل قرابت ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع