30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جوکہ عورت منکوحہ سے ہے بسبب اس کے اعمال زبون(یعنی فرزند اپنے باپ کی عزت کاخواہاں نہ ہے اور سخن نازیبا باپ کو کہتاہے اورقصدکرتاہے کہ اگرموقع ہوتوباپ کو مارڈالوں)کے سخت ناخوش ہے اورچاہتاہے کہ اس کو عاق کردے اور اپنی جائداد کو دواورلڑکوں کو جو عورت غیرمنکوحہ سے ہیں دے دے تو اس شخص کا اپنے فرزند کے ان افعال پرعاق کرنا اور اپنی جائداد کوغیرمنکوحہ کے لڑکوں کو دینا کیساہے اورعاق ہونے کے واسطے کون سے الفاظ کئے جاتے ہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
بے علموں کے ذہن میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کاعلاقہ زوجیت قطع کرنے کے لئے شرع مطہر نے طلاق رکھی ہے کہ اس کا اختیار بدست شوہر ہے اور اس کے لئے کچھ الفاظ ہیں کہ جب شوہر سے صادرہوں طلاق واقع ہو یوں ہی اولاد کاعلاقہ ولدیت قطع کرنے کے لئے عاق کرنابھی کوئی شرعی چیزہے جس کا اختیار بدست والدین ہے اور اس کے لئے بھی کچھ الفاظ مقررہیں کہ والدین ان کا استعمال کریں تو اولاد عاق ہوکر ترکہ سے محروم ہوجائے۔مگریہ محض تراشیدہ خیال ہیں جس کی اصل شرع مطہر میں اصلًا نہیں،نہ علاقہ ولدیت وہ چیز ہے کہ کسی کے قطع کئے منقطع ہوسکے،مگر معاذاﷲ بحالت ارتداد والعیاذباﷲ تعالٰی۔ شرع میں عقوق ناحق نافرمانی والدین کوکہتے ہیں کہ یہ کار اولاد ہے،جوشخص اپنے ماں باپ کاحکم بے عذر شرعی نہ مانے گا یامعاذاﷲ انہیں آزارپہنچائےگا وہی عاق ہے اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں بلکہ اپنی فرط محبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں مگر کوئی شخص عاق ہونے کے سبب ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا اورجوفرمانبرداری والدین میں مصروف رہے اور وہ بے وجہ اس سے ناراض رہیں یابحکم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی [1](اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی بات نہیں مانی جائے گی۔ت)کسی مخالف شرع بات میں ان کا کہا نہ مانے اور وہ اس سبب سے ناخوش ہوں تو ہرگزعاق نہیں۔ اور اگر کوئی شخص لاکھ بار اپنے فرمانبردار خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ میں نے تجھے عاق کیا یا اپنے ترکہ سے محروم کردیا تونہ اس کایہ کہناکوئی نیا اثر پیداکرسکتاہے نہ وہ بدیں وجہ ترکہ سے محروم ہوسکے۔یہ شخص اگراپنی جائداد اپنے بیـٹے کومحروم کرنے کے لئے ان بے نکاحی عورت کے لڑکوں کو دے دے گا تودنیا میں یہ کاروائی اس کی اگرچہ چل جائے مگرعنداﷲ ماخوذہوگا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع