30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی نہ کیاتھا اس کاوارث سواخیراتی خان،اس کے پھوپھی زادبھائی کے اور کوئی نہ تھا مگر خیراتی خاں اس کے سامنے مرگیا۔خیراتی خاں نے اپنی زوجہ سے کہ اس کے سامنے مرچکی تھی ایك دخترچھچی او رزوجہ ثانیہ سے کہ زندہ ہے دوپسربندہ حسن ومجب حسین چھوڑے،اس صورت میں یہ وارثان خیراتی خاں غلام حسین خاں کے وارث ہوں گے یانہیں؟ اگرہوں گے تو کس کس کو کتناکتنا پہنچے گا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث کاداء الدین واجراء الوصیۃ،ك ترکہ غلام حسین خاں کاپانچ سہام پرمنقسم ہوکر دو۲دو۲سہم بندہ حسن ومجب حسین اورایك سہم چھچی کو ملے گا اور زوجہ خیراتی خاں کچھ نہ پائے گی۔عالمگیریہ میں ہے:
|
ان اجتمعوا وکان حیزقرابتھم متحدا فالاقوی اولی، ثم ولدالوارث اولٰی،وان استوت قرابتھم فللذکر مثل حظ الانثیین،فان ترك ابن عمۃ وابنۃ عمۃ فالمال بینھما للذکر مثل حظ الانثیین، والکلام فی اولادھٰؤلاء بمنزلۃ الکلام فی اٰبائھم عند انعدام الاصول [1] اھ ملتقطا واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگرذوی الارحام کی صنف رابع کے چند رشتہ دار جمع ہوں او ران کی قرابت متحد ہو تو ان میں سے جو اقوٰی ہوگا وہ اولٰی ہوگا۔پھروارث کی اولاد اولٰی ہوگی،او ر اگر ان کی قرابت برابر ہے تومذکر کے لئے مؤنث سے دگنا ہوگا۔اگر ایك پھوپھی کا بیٹا اورایك پھوپھی کی بیٹی چھوڑ کرمرگیا توترکہ کامال ان کے درمیان یوں تقسیم ہوگا کہ مذکر کومؤنث سے دگنا ملے گا،ان کی اولاد میں کلام ایسے ہی ہے جیسا ان کے آباء میں ہے جبکہ اصول معدوم ہوں اھ التقاط۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۵: ازٹونك دروازہ کلاں مرسلہ احمدحسن خاں محرر تھانہ جھندوا پرگنہ سرونج ریاست ٹونك ۱۰رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بوہارخاں نے ایك عورت مسلمان کی تھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع