30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ و الام تملك ذٰلك ویقع قبضا عنہ احکام الصغار من البیوع [1]۔ |
توخریداری ماں کی طرف سے واقع ہوگی کیونکہ وہ نابالغ اولاد کے لئے خریداری کی مالك نہیں اور جائداد بیٹے کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوگئی اور اس کی وہ مالك ہے اور ماں کا مبیع پرقبضہ بیٹے کی طرف سے واقع ہوگا(احکام الصغار، کتاب البیوع)(ت)۔ |
پس جائداد مذکورہ برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء الدین واجراء الوصیۃ،چوبیس سہام پرمنقسم ہوکر اس حساب سے ورثہ فضل علی کی دی جائے گی۔
مستین حیدرعلی علی جان
۱۷ ۴ ۳
البتہ جبکہ وہ روپیہ جس کے عوض یہ جائداد خریدی گئی ملك میرحسین علی تھا اور اس میں تمام وارثانِ میرحسین علی کاحق تھا جسے معصومہ نے بے اجازت دیگرورثہ خرچ کرڈالا توباقی وارثوں کے حصص کا تاوان معصومہ پرآیا کہ وہ اس کے متروکہ سے(خواہ اسی جائداد فضل علی کاحصہ ہو یا اس کے سوا اور کوئی چیزہو)وصول کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ردالمحتار میں ہے:
|
ما اشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک[2]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
شرکاء میں سے ایك نے جو کچھ اپنی ذات کےلئے خریدا وہ اسی کا ہوگا اور اس کے ثمن میں دیگر شرکاء کے حصہ کاتاوان دے گا اگر اس نے مشترکہ مال سے ثمن ادا کیاہو۔اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب سیدمظہرحسن صاحب خادم جبہ مقدسہ ۱۶ذیقعدہ ۱۳۰۸ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام حسین خاں لاولدمرا اور اس نے نکاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع